1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’’بیٹی کے نام پر باپ پر دباؤ ڈالا گیا‘‘

پاکستان کے وزیر اعظم کی بیٹی مریم نواز شریف آج پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہوئیں۔ مریم نواز شریف نے ایک مرتبہ اپنے خاندان پر عائد الزامات کو مسترد کر دیا۔

جے آئی ٹی میں لگ بھگ دو گھنٹے تک جاری رہنے والی پیشی کے بعد وزیر اعظم کی بیٹی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا،’’ نواز شریف چوتھی اور پانچویں مرتبہ بھی وزیراعظم بنیں گے۔‘‘ انہوں نے ایک جذباتی تقریر کرتے ہوئے مزید کہا ’’روک لو نواز شریف کو ورنہ بجلی آجائے گی، روک لو نواز شریف کو ورنہ سی پیک منصوبہ مکمل ہو جائے گا۔‘‘ مریم نواز کے بقول وہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئیں حالانکہ پاناما پیپرز کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے آرڈر میں ان کا نام نہیں تھا، ’’میں نے وہ قرض اتار دیا جو مجھ پر واجب بھی نہیں تھا۔ میں نے جے آئی ٹی سے سوال کیا کہ مجھے بتائیے کہ ہم پر الزام کیا ہے جے آئی ٹی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ جے آئی ٹی الزام ڈھونڈ رہی ہے کہ ان پر الزام کیا لگائیں۔‘‘

مریم نواز نے کہا، ’’جھکانے اور رولانے کی طاقت صرف خدا کے پاس ہے کسی انسانی کی اوقات نہیں ہے کہ وہ کسی کو جھکائے یا رولائے۔ حکمرانی کا احتساب بہت کڑا ہوگا خدا کے سامنے۔‘‘ انہوں نے کہا،’’ میرا نام ڈان لیکس میں آیا اس لیے تاکہ باپ کو بیٹی کا نام استعمال کر کے دباؤ میں ڈالا جائے۔ نواز شریف کی بیٹی کو اس کی کمزوری بنانے والے اس کو نواز شریف کی طاقت کے طور پر پائیں گے۔‘‘

سوشل میڈیا پر مریم نواز شریف کی جے آئی ٹی کے سامنے حاضری پر کئی افراد نے مسلم لیگ نون کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم کی بیٹی کی سکیورٹی کے لیے کڑے حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے اور بڑے پیمانے پر پولیس کی نفری بھی جوڈیشل اکیڈمی کے باہر تعینات کی گئی تھی۔ صحافی عمر چیمہ جو پاناما لیکس منظر عام پر لانے والے صحافیوں کی ٹیم میں شامل تھے نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا، ’’مریم نواز کو بہت زیادہ سکیورٹی پروٹوکول دیا گیا ہے اسکا صرف یہ قصور ہے کہ وہ وزیراعظم کی بیٹی ہے۔‘‘

 مریم نواز شریف جب جوڈیشل اکیڈمی کے باہر گاڑی سے اتریں تو ایک خاتون پولیس افسر نے انہیں سیلوٹ کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ٹوئٹ میں لکھا،’’ ناقابل یقین، ایک پرائیویٹ شہری مریم کو سرکاری پروٹوکول دیا گیا پولیس اسے سیلوٹ کر رہی ہے جب وہ ایک مجرمانہ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں پیش ہوئی ہیں۔‘‘ عمران خان نے چترال میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا،’’ یہاں سب شہزادے بنے ہوئے ہیں، ہم پیسے کا پوچھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم پر بڑا ظلم ہو گیا۔‘‘

دوسری جانب وزیر مملکت برائے وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگ زیب نے مریم نواز شریف کے بیان کی ایک تصویر شئیر کرتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں لکھا،’’ ہن آرام ای‘‘

آج دن بھر پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف شدید بیانات کا سلسلہ جاری رہا۔ 

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے نیوز چینل اے آر وائے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم ایل نون نے جوڈیشیل اکیڈمی کے باہر لوگوں کا ایک مجمع اکٹھا کیا لیکن سپریم کورٹ ان دھمکیوں میں نہیں آئے گی۔ آج کا سپریم کورٹ ماضی کا سپریم کورٹ نہیں ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا، ’’ ایس اسی پی لیول کی افسر وزیر اعظم کی بیٹی کو کو سیلوٹ مارتی ہیں کیونکہ پاکستان کے ادارے حکمرانوں کے تابع ہے۔ ‘‘

شاہ محمود قریشی نے کہا، ’’ہم سب بہنوں والے ہیں لیکن قانون مرد اور عورت میں تمیز نہیں کرتا۔ عدالت کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ کیا لوگ بھول گئے کے بے نظیر کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ جس طرح بے نظیر کو جیلوں میں جانا پڑا۔ بے نظیر کی والدہ کو تو اس سے کہیں زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑا تھا۔‘‘

سوشل میڈیا پر بھی کئی سیاسی رہنماؤں اور تجزیہ کاروں نے بے نظیر بھٹو کی وہ تصاویر شیئر کیں جن میں وہ جیل کے باہر کھڑی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے پولیس وین میں بیٹھے کئی برس پرانی اپنی تصویر شیئر کی اور لکھا کہ میں بھی تو کسی کی بیٹی تھی۔

DW.COM