1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

بیٹی کے قاتل، اپنے ہی بیٹے کو معاف نہیں کروں گا، والد قندیل بلوچ

مقتولہ پاکستانی ماڈل قندیل بلوچ کے والد نے کہا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو معاف نہیں کریں گے جس نے ان کی بیٹی کو’غیرت‘ کے نام پر قتل کر دیا تھا۔

گزشتہ ہفتے پاکستان نے غیرت کے نام پر قتل جیسی فرسودہ رسم کے خلاف ایسے قانون میں ترمیم کی تھی جس کے تحت قندیل بلوچ کے بھائی جیسے قاتلوں کو جیل سے بچنے کے راستے میسر تھے۔ کئی سوعورتوں کو پاکستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں ہر سال غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ نیا قانون ایک اہم پیش رفت ہے تاہم کچھ قانونی ماہرین کی رائے میں اس قانون میں قاتل کو مزید سخت سزا دیے جانے کی گنجائش موجود ہے۔

قندیل بلوچ کے والد محمد عظیم نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ’’میری بیٹی کے قتل میں ملوث میرا بیٹا اور اس کے ساتھ تین ساتھیوں کو سزا ملنی چاہیے چاہے عمر قید یا سزائے موت، مجھے اس کی خوشی ہوگی اور میری طرف سے انہیں کوئی معافی نہیں ملے گی۔‘‘

Qandeel Baloch Bloggerin

قندیل بلوچ کے قتل کے بعد پاکستانی معاشرے میں اس کے بھائی کی سزا کے حوالے سے متضاد آراء سامنے آئی تھی

قندیل بلوچ کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ غیرت کے نام پر قتل کرنے سے متعلق نئے قانون سے آگاہ نہیں ہیں۔ قندیل کی والدہ انور مائی کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کو اندازہ نہیں تھا کہ قندیل کے قتل کے کیا اثرات ہوں گے۔ قندیل بلوچ کے قتل کے بعد پاکستانی معاشرے میں اس کے بھائی کی سزا کے حوالے سے متضاد آراء سامنے آئی تھی۔

قندیل بلوچ کے بھائی نے میڈیا کے سامنے کہا تھا، ’’مجھے اپنے کیے پر شرمندگی نہیں ہے، میری بہن کے کام قابل برداشت نہیں تھے۔‘‘

مائی نے اے ایف پی کوبتایا، ’’وسیم نے سوچا تھا کہ اسے صرف دو یا تین مہنیے کی سزا ہو گی اسے نہیں معلوم تھا کہ یہ اتنا ہائی پروفائل کیس بن جائے گا۔‘‘ قندیل کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا سوچ رہا تھا کہ اس کیس میں اس کے والدین شکایت کنندہ ہوں گے اور پرانے قانون کے تحت اگر وہ اسے معاف کر دیں گے تو اسے سزا نہیں ہو گی۔

Pakistan Beerdigung Qandeel Baloch

قندیل بلوچ کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ غیرت کے نام پر قتل کرنے سے متعلق نئے قانون سے آگاہ نہیں ہیں۔

دوسری جانب چند وکلاء کا کہنا ہے کہ اس قانون کے تحت غیرت کے نام پر قتل کرنے والے کو عمر قید کی سزا تو دی جائے گی لیکن اس کے باوجود ایسے کیسز میں جج  کے اپنی صوابدید پر بہت کچھ چھوڑ دیا گیا ہے۔ وکیل انیس جیلانی کا کہنا ہے، ’’اگر قانون ساز عمر قید کو لازمی کرنا چاہتے تھے تو انہیں قانون میں یہ لکھنا چاہیے تھا۔‘‘ قانون کی پروفیسر عبیرہ اشفاق کا کہنا ہے کہ ایسے زیادہ تر کیسز عدالت جانے سے قبل پولیس کے ساتھ ہی طے ہو جاتے ہیں۔ عبیرہ کہتی ہیں، ’’ہمیں اسے’غیرت کے نام‘ پر قتل نہیں کہنا چاہیے بلکہ اسے کوئی انتہائی برا نام دینا چاہیے یہ جرم ہے ۔‘‘ عبیرہ کہتی ہے کہ کسی ہائی پرفائل کیس میں انصاف ملنے کے بعد شاید ملک میں ’غیرت کے نام ‘ پر قتل جیسے غلط فعل میں کمی آسکے۔