1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’بیوی کہتی ہے کہ کیوں نہ بھارت چھوڑ دیں‘، اداکار عامر خان

بالی وڈ کے سپر سٹار عامر خان نے بھی اپنے ہم وطن ان تخلیق کاروں اور ان دانشوروں کی آواز میں آواز ملا دی ہے، جو ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ حکومت نے عامر خان کے بیان کو غیر واجب قرار دیا ہے۔

Indien Aamir Khan und Kiran Rao

اکیس دسمبر 2013ء کو اداکار عامر خان اپنی اہلیہ کرن راؤ کے ساتھ ممبئی میں ایک پارٹی میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں

پیر کے روز بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں رام ناتھ گوئنکا ایکسیلینس صحافتی ایوارڈز کی تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے عامر حان نے کہا کہ اُن کی اہلیہ کرن نے ممکنہ طور پر بھارت چھوڑ کر چلے جانے کا خیال ظاہر کیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق عامر خان نے ایک طرح سے اُن تخلیق کاروں کے موقف کی تائید کی، جو اپنے اپنے ایوارڈز واپس کر رہے ہیں۔ عامر خان نے کہا کہ تخلیق کاروں کے لیے اپنے عدم اطمینان اور مایوسی کے اظہار کا ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ خود کو ملنے والے ایوارڈز واپس کر دیں۔

تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے عامر خان نے کہا:’’ایک فرد کے طور پر اور اس ملک کے ایک شہری کے طور پر ہم اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ کیا کچھ ہو رہا ہے، ہم خبروں میں بھی دیکھتے ہیں اور یقینی طور پر مجھے بہت تشویش ہے۔ مَیں اس بات کی تردید نہیں کر سکتا۔ متعدد واقعات ایسے ہیں، جنہوں نے مجھے تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔‘‘

اداکار عامر خان نے کہا کہ اُن کے خیال میں گزشتہ چھ یا آٹھ ماہ کے دوران خوف اور عدم تحفظ کے احساسات میں اضافہ ہوا ہے:’’جب مَیں گھر میں اپنی اہلیہ کرن کے ساتھ گپ شپ کرتا ہوں تو وہ کہتی ہے کہ کیا ہمیں بھارت چھوڑ کر چلے جانا چاہیے؟ وہ اپنے بچے کی وجہ سے خوفزدہ ہے۔ اُسے اس بات سے ڈر لگتا ہے کہ ہمارے اردگرد کا ماحول آگے چل کر کیسا ہونے والا ہے۔ وہ ہر روز اخبار کھولنے سے ڈرتی ہے۔‘‘

Filmstill Ein Stern auf Erden

عامر خان فلم ’تارے زمین پر‘ کے ایک منظر میں

پچاس سالہ اداکار نے کہا:’’ان باتوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بے چینی بڑھ رہی ہے، تشویش کے ساتھ ساتھ مایوسی بھی بڑھ رہی ہے۔ انسان یہ سوچ کر افسردہ ہو جاتا ہے کہ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔ میرے اندر یہ احساسات موجود ہیں۔‘‘

عامر خان نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کے لیے سلامتی کا احساس اور انصاف کی فضا بہت اہم ہوا کرتے ہیں۔ ملکی سیاستدانوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عامر خان نے کہا:’’ہم لوگوں کو اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں اور ریاستی یا مرکزی سطح پر پانچ سال کے لیے کاروبارِ حکومت سونپتے ہیں۔ جب لوگ قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں تو تب ہم ان (سیاستدانوں) کی طرف دیکھتے ہیں کہ یہ کوئی مضبوط موقف اپنائیں گے، کوئی بھرپور بیان دیں گے، قانونی عمل کو تیز تر کریں گے۔ اگر ایسا ہوتا نظر آئے تو تحفظ کا احساس ہوتا ہے ا ور اگر ایسا نہ ہو تو پھر عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔‘‘

عامر خان نے مختلف سائنسدانوں، ادیبوں اور فلمسازوں کی جانب سے اپنے اپنے ایوارڈز واپس کرنے کے اقدام کی تائید کی اور کہا کہ اپنے نقطہٴ نظر کے اظہار کا یہ بھی ایک طریقہ ہے اور جب تک اس طرح کا احتجاج تشدد سے پاک رہے، وہ اس کی تائید و حمایت کرتے ہیں:’’ہر فرد کو ہر طرح سے احتجاج کرنے کا حق ہے، بس اُنہیں قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔‘‘

Mukhtar Abbas Naqvi, Vizepräsident der Bharatiya Janata Partei (BJP)

اقلیتی امور کے وزیر مملکت مختار عباس نقوی نے کہا:’’ہم عامر کو ملک چھوڑ کر جانے نہیں دیں گے، وہ محفوظ ہیں۔‘‘

اُدھر نئی دہلی حکومت نے عامر خان کے اس بیان کو غیرواجب اور ’خواہ مخواہ سنسنی پیدا کرنے والا‘ قرار دیا ہے۔ اقلیتی امور کے وزیر مملکت مختار عباس نقوی نے کہا:’’ہم عامر کو ملک چھوڑ کر جانے نہیں دیں گے، وہ محفوظ ہیں۔ جس طرح کا بیان عامر نے دیا ہے، یہ اُن لوگوں کی توہین کے مترادف ہے، جنہوں نے عامر کو بھارت میں عزت اور ا حترام دیا ہے۔‘‘