1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

بین الاقوامی کھیلوں کے فروغ کے 50 سال مکمل

جرمنی سن 1961 سے دنيا بھر ميں، خاص طور پر ترقی پذير ملکوں ميں کھيل کے منصوبوں کے لئے امداد فراہم کررہا ہے۔ اس طرح اب اسپورٹس کے لئے جرمن امداد کے 50 سال پورے ہو رہے ہيں۔

default

جرمنی کے اسپورٹس کے ماہرين بھی دنيا بھر ميں جرمن وزارت خارجہ کے تحت خدمات انجام دے رہے ہيں۔ وہ کھيل کی انجمنوں اور کلبوں کو اپنا نظام بہتر بنانے ميں مدد دينے کے علاوہ نوجوانوں کو کھيل کی تعليم اور اسپورٹ کوچز کو تربيت ديتے ہيں۔ اس سلسلے ميں ہميشہ ہی اپنی مدد آپ پر خصوصی زور ديا جاتا ہے۔ وزيرمملکت کورنيليا پيپر نے کہا:’’ ہم کھیلوں کے ذريعے انصاف، رواداری، صحت مند مقابلے کے رجحان اور قوموں کے مابين افہام و تفہيم کو بھی فروغ دے رہے ہيں۔ اس لئے کھيل بہت اہم ہے اور يہ ترقی پذير ملکوں کے نوجوانوں ميں خود اعتمادی پيدا کرنے کے لئے بھی بہت ضروری ہے۔‘‘

30 سال سے لائٹ ايتھليٹکس کے ٹرينر کی حيثيت سے دنيا بھر کا سفر کرنے والے رالف مُوخبہانی نے کہا:’’ميں يہ سمجھتا ہوں کہ ہم ايسے کام کرسکتے ہيں، جنہيں سياست سر انجام نہيں دے سکتی۔ ہم سماجی ڈھانچے تعمير کرسکتے ہيں اور انسانوں کے درميان تعلقات کو بہتر بنا سکتے ہيں۔‘‘

Mission Olympic Logo

جرمنی کی طرف سے تیرہ ہزار سے زيادہ اسپورٹس پراجيکٹس ميں مدد دی جاچکی ہے

جرمنی کی وزارت خارجہ دنيا کے مختلف علاقوں ميں کھيل کے فروغ کے لئے سالانہ پانچ ملين يورو کی مدد ديتی ہے۔ يہ مدد حاصل کرنے کے لئے ترقی پذير اور اُبھرتے ہوئے صنعتی ممالک درخواست داخل کرا سکتے ہيں۔ اس کے بعد وزارت خارجہ جرمن اولمپک کميٹی، فٹ بال ايسوسی ايشن اور لائٹ ايتھليٹکس اسپورٹس ايسوسی ايشن جيسے اداروں کی مدد سے ايسے پراجيکٹس کا انتخاب کیا جاتا ہے، جن کے لئے مدد دی جا سکتی ہے۔

سن 1961 سے لے کر اب تک 1300 سے زيادہ اسپورٹس پراجيکٹس ميں مدد دی جاچکی ہے۔ جرمن اولمپک کميٹی کی کیتھرين ميرکل نے کہا:’’ہم عمومی طور پر کسی بھی ملک کو اپنے امدادی پروگرام سے خارج نہيں کرتے۔ خاص طور پر اُن ملکوں سے رابطے پيدا کرنے کے لئے اسپورٹس بہت کارآمد ذرائع ہيں، جہاں سفارتی طریقوں سے کچھ حاصل کرنا ممکن نہيں ہوتا۔ اس کے باوجود کچھ حدود بھی ہوتی ہيں۔ مثلا سوڈان سے موصول ہونے والی درخواستوں کے باوجود سياسی صورتحال کی وجہ سے وہاں کے کسی کھيل پراجيکٹ کو مدد نہيں دی جاسکی۔‘‘

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM