1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

بین الاقوامی کرکٹرز کی موجودگی میں ’شپگیزه‘ ٹی ٹوئنٹی میلہ شروع

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستانی اور کئی دیگر ممالک کے کرکٹرز کی آمد کے ساته ہی آج بروز پير ملکی ’شپگیزه‘ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ لیگ کا آغاز ہوگیا ہے۔

کابل کے الکوزئی بین الاقوامی اسٹیڈیم میں اتوار کو ایک رنگارنگ افتتاحی تقریب کے بعد پیر کے روز سے لیگ مقابلوں کا آغاز ہوا۔ اس ٹورنامنٹ میں ملک کے مختلف زونز سے منتخب کردہ چھ ٹیمیں حصه لے رہی ہیں۔ پاکستان کے مایه ناز آل راونڈر عبدالرزاق، وکٹ کیپر بیٹسمین عمر اکمل اور کامران اکمل کے علاوه ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقه اور بنگله دیش سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی کرکٹرز بهی اس لیگ میں حصه لے رہے  ہیں۔

پاکستانی کرکٹرز افغانستان کی مقامی کرکٹ لیگ میں جلوه گر

افغانستان اور آئرلینڈ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ملک بن گئے

کابل اور لاہور، پاک افغان کرکٹ ڈپلومیسی کے لیے سرگرم

سابق پاکستانی کپتان بوم بوم  شاہد خان آفریدی نے آخری لمحات میں نجی مصروفیات کی بنیاد پر افغانستان کرکٹ بورڈ اور یہاں موجود اپنے سینکڑوں ہزاروں مداحوں سے معذرت کرلی۔ یہ امر اہم ہے کہ شاہد آفریدی نے ’سپن غر زمریان‘ کی نمائندگی کرنے کا وعده کیا تها اور اس ضمن میں ایک ڈیل بھی طے کر لی گئی تھی۔

تاہم شاہد آفریدی نے معذرت کرتے ہوئے کہا، ’’میں افغان حکومت، کرکٹ بورڈ اور مسلم یار صاحب’سپن غر بازان‘ کے مالک اور اپنے مداحوں کا شکر گزار ہوں۔ میری خواہش تهی کہ میں کابل آؤں اور وہاں اپنے مداحوں سے ملوں اور کرکٹ کهیلوں لیکن کچھ ضروری فیملی مصروفیات پیدا ہوگئیں ہیں۔  لیکن میں مسقتبل میں ضرور افغانستان آؤں گا۔‘‘

تجربه کار کرکٹ کمنٹیٹر محمد ابراہیم مومند نے ڈی ڈبلیو کو بتایا که اس میں کوئی شک نہیں که افغانستان میں خاص طور پر شاہد خان آفریدی کے چاہنے والوں کی تعداد بہت زیاده ہے اور ان کے مداح دور دراز علاقوں سے کابل آئے تاکه اپنے پسندیده کهلاڑی کو قریب سے ایکشن میں دیکھ سکیں۔‘‘

ابراہیم مومند  نے مزید کہا، ’’آفریدی کے نه آنے سے بہت زیاده مداح اداس ہوئے ہوں گے لیکن  ملکی کهلاڑیوں جیساکه راشد خان ارمان، محمد نبی عیسی خیل، شہزاد محمدی، گلبدین نائب، شفق الله شفق اور کئی دیگر کرکٹرز لوگوں میں اتنے مقبول ہیں که مجموعی طور پر شپگیزه پر کچه فرق نہیں  پڑنے والا‘‘۔

Indien World T20 cricket tournament - Team Pakistan - Shahid Afridi (Getty Images/AFP/D. Sarkar)

آفریدی نے ’سپورٹس ڈپلومیسی‘ کی مدد سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری کے لیے اپنی کوششیں جاری رکهنے کا اعلان کیا ہے

آفریدی نے ’سپورٹس ڈپلومیسی‘ کی مدد سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری کے لیے اپنی کوششیں جاری رکهنے کا اعلان کیا ہے۔ رواں برس مئی میں پاکستان اور افغانستان کے کرکٹ بورڈز نے مشترکه طور پر دو طرفه مقابلوں کے ساتھ ساتھ تعاون پر مبنی ایک جامع قرارداد پر دستخط کیے تھے  تاہم کابل میں ہوئے حالیہ ٹرک بم حملے نے ان تعلقات میں بہتری کی امید پر پانی پهیر دیا، جس سے دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز بهی متاثر ہوئے۔ اس واقعے کے بعد تاحال رسمی سطح پر دونوں کرکٹ بورڈز کے مابین سردمہری برقرار ہے۔

افغانستان میں کرکٹ کی بڑهتی ہوئی مقبولیت، ملکی ٹیم کی نسبتا بہتر کارکردگی اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل میں حالیه رکنیت اس باعث ہوئی ہےکه افغانستان کرکٹ بورڈ کی آمدن میں خاطر خواه اضافه ہوا ہے جس کی بدولت اس سال کے ’شپگیره‘ ٹورنامنٹ میں اور زیاده سرمایه کاری ممکن ہوسکی ہے۔

سابق انگلش بیٹسمین اینڈریو مولز اور ایڈم ہولیوک، جنوبی افریقه کے مشہور اوپننگ بلے باز ہرشل گبز اور سابق سری لنکن کپتان جے سوریا بحیثیت کوچ ’شپگیزه‘ میں حصه لے رہے  ہیں۔ مشرقی صوبه جلال آباد سے کابل آئے ہوئے اقبال خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا که وه اور ان کے دوستوں نے بمشکل ’شپگیزه‘ کے تمام میچز کے ٹکٹ حاصل کیے ہیں اور ٹورنامنٹ کے خاتمے تک وه کابل میں ہی قیام کریں گے۔

ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کی مقبول انڈین پریمیئر لیگ اور پهر بعد میں کیریبئین پریمیئر لیگ میں افغانستان کے راشد خان ارمان اور محمد نبی عیسی خیل کی شمولیت اور بہتر کارکردگی نےمقامی سطح پر کرکٹ کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

DW.COM