1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بین الاقوامی عدالت انصاف نے کلبھوشن کی پھانسی پر عملدرآمد روکنے کا کہا ہے، نئی دہلی

بین الاقوامی عدالت انصاف نے نئی دہلی کی درخواست پر ایکشن لیتے ہوئے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ بھارتی نیوی کے سابق افسر کلبھوشن یادیو کی پھانسی کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق  بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے نے بتایا ہے کہ دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف نے 46 سالہ کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی ایک فوجی عدالت کی طرف سے سنائی جانے والی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روکنے کا کہا ہے۔
 

ڈی پی اے نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دی ہیگ میں قائم اس عدالت کی طرف سے پاکستان کو ایک خط تحریر کر دیا گیا ہے کہ جب تک عدالت اس کیس کا جائزہ نہیں لیتی، یادیو کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد نہ کیا جائے۔ تاہم پاکستان کو اس خط پر لازمی طور پر عمل کرنے کا پابند نہیں کیا گیا۔

قبل ازیں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے ايک پريس ريليز کے ذريعے اس امر کی تصديق کر دی ہے کہ بھارت نے اپنے شہری کلبھوشن سدھیر یادیو کی کونسلر رسائی کے معاملے پر پاکستان کے خلاف کارروائی کا آغاز کر ديا ہے۔ یادیوکو پاکستان کی فوجی عدالت سزائے موت سنا چکی ہے۔ اس بیان میں لکھا ہے کہ نئی دہلی کا موقف ہے کہ پاکستان نے بھارت کو یادیو کی گرفتاری کے بارے میں کافی دیر سے آگاہ کیا تھا اور اسے اپنے حقوق سے محروم رکھا گیا۔ یہ الزام بھی عائد کیا گيا ہے کہ بھارتی حکام کی کئی درخواستوں کے باوجود یادیو تک کونسلر رسائی کی اجازت نہيں ديتے ہوئے پاکستان نے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔

قبل ازيں بھارت نے اپنی تحريری درخواست میں لکھا تھا،’’یادیو کو ایران سے اغواء کیا گیا تھا جہاں وہ بھارتی نیوی سے ریٹائر ہونے کے بعد کاروبار کر رہا تھا۔ بعد میں یہ بتایا گیا کہ اسے تین مارچ سن 2016 کو بلوچستان سے حراست میں لیا گیا۔ بھارتی حکام  کو اس کی حراست کے بارے میں 25 مارچ سن 2016 کو آگاہ کیا گیا۔‘‘

پاکستان کے پڑوسی اور روايتی حريف ملک بھارت نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ کلبھوشن کی سزائے موت کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔    

ادھر پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے ایک نجی ٹیلی وژن کو بتایا ہے کہ پاکستان بھارتی درخواست اور عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار کا جائزہ لے رہا ہے اور جائزے کے بعد ہی پاکستان اس معاملے پر کوئی بیان جاری کرے گا۔ واضح رہے کہ پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ کلبھوش یادیو بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایجنٹ ہے اور پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ ياديو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مقصد سے پاکستان آیا تھا۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے ایک ویڈیو بھی جاری کی جاچکی ہے جس میں کلبھوشن اعتراف جرم کر چکا ہے۔