1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بین الاقوامی دباؤ کام نہ آیا، شفقت حسین کو پھانسی ہو گئی

پاکستان میں سزائے موت کے قیدی شفقت حسین کو کراچی کی سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور وکلاء یہ کہتے ہوئے شفقت کو پھانسی نہ دینے کا مطالبہ کر رہے تھے کہ گرفتاری کے وقت وہ محض سترہ برس کا تھا۔

Pakistan Eltern von Shafqat Hussain Todeskandidat

شفقت حسین کے ماں باپ اپنے بیٹے کی تصویر کے ساتھ

نیوز ایجنسیوں کی متفقہ رپورٹوں کے مطابق شفقت کی سزائے موت پر عملدرآمد منگل چار اگست کی صبح کیا گیا۔ یہ پانچویں ڈیتھ وارنٹ تھے، جن کے اجراء کے بعد اس پھانسی پر عملدرآمد کر دیا گیا۔ اس سے پہلے یہ پھانسی چار مرتبہ عین آخری لمحات میں مؤخر ہوتی رہی۔

پاکستانی حکام نے ملک کے اندر اور باہر سے پھانسی روکے جانے کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بابت کافی ثبوت موجود نہیں ہیں کہ گرفتاری کے وقت شفقت حسین کم عمر تھا۔

شفقت حسین کی نمائندگی قانونی امداد فراہم کرنے والا ایک گروپ ’جسٹس پروجیکٹ پاکستان‘ کر رہا تھا۔ اس گروپ کی جانب سے بتایا گیا ہے:’’ملک کے اندر اور باہر سے پھانسی روکے جانے کی تمام تر اپیلوں کے باوجود شفقت حسین کو آج صبح پھانسی دے دی گئی۔‘‘ پھانسی کی اس سزا پر عملدرآمد کراچی کی سینٹرل جیل میں کیا گیا اور نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق اس جیل کے ایک اہلکار نے اس پھانسی کی تصدیق کی ہے۔

پاکستانی قانون کسی ایسے شخص کو موت کی سزا دینے کی اجازت نہیں دیتا، جو گرفتاری کے وقت ابھی نابالغ ہو تاہم سرکاری وکلاء کا موقف یہ رہا کہ شفقت حسین گرفتاری کے وقت بالغ تھا اور ایک پہریدار کے طور پر کام کر رہا تھا۔
شفقت حسین کے وکلاء نے اسکول کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ 2004ء میں اُس کی عمر سترہ برس تھی اور یہ کہ اُسے سگریٹوں سے جلایا گیا اور اُس کے ناخن کھینچ نکالے گئے، یہاں تک کہ اُس نے ایک بچے کو موت کے گھاٹ اتارنے کا اعتراف کر لیا۔

اُس کے گھر والوں کا کہنا تو یہ تھا کہ وہ صرف چَودہ برس تھا، جب اُسے گرفتار کیا گیا۔ وکلاء نے کہا کہ شفقت کے گھر والوں نے اُس کی پیدائش سے متعلق ریکارڈ نہیں رکھا تھا۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ایک دور افتادہ گاؤں کا باسی شفقت حسین 2004ء میں کراچی میں ایک چوکیدار کے طور پر کام کر رہا تھا، جب اُسی علاقے میں عمیر نامی ایک سات سالہ بچہ لاپتہ ہو گیا۔ چند روز بعد شفقت حسین کے موبائل فون سے کی جانے والی ایک کال کے ذریعے بچے کی رہائی کے بدلے پانچ لاکھ روپے کا تاوان طلب کیا گیا۔ بعد ازاں حسین کو گرفتار کر لیا گیا اور اُس نے بچے کو اغوا اور قتل کرنے کا اعتراف کر لیا۔ مقدمہ شروع ہونے پر

شفقت حسین نے موقف اختیار کیا کہ اُسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور یوں اعترافِ جرم کرنے پر مجبور کیا گیا۔
نیوز ایجنسی روئٹرز کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ جن لوگوں کو آج کل پاکستان میں پھانسیاں دی جا رہی ہیں، اُن میں سے بہت کم ایسے ہیں، جن کا تعلق عسکریت پسندی سے ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انصاف کے نظام میں بہت سی خامیاں موجود ہیں۔

Pakistan Protest Shafqat Hussain Hinrichtung

پاکستان کے اندر بھی حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم بہت سے حلقے شفقت حسین کو پھانسی دیے جانے کے خلاف احتجاج کرتے رہے

روئٹرز کے مطابق پاکستان میں بہت کم پولیس اہلکار ایسے ہیں، جنہیں تفتیش کرنے کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے اور زیادہ تر ایسے ہوتے ہیں، جنہیں جبر و تشدد کے ذریعے ملزمان سے اعترافِ جرم کروانے کے الزامات کا سامنا رہتا ہے۔

شفقت حسین کے گھر و الوں کا کہنا ہے کہ ابتدائی سماعت کے بعد ہی شفقت حسین کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی تھی، جس کا علم ہونے پر اُنہوں نے ایک پرائیویٹ وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اُس وکیل نے شفقت کا کیس لڑنے کے لیے تیس ہزار روپے طلب کیے تھے لیکن غربت کی وجہ سے وہ اتنی فیس ادا نہ کر سکے۔

گزشتہ برس دسمبر میں پشاور کے ایک اسکول میں قریب ڈیڑھ سو طلبہ اور اساتذہ کے قتل کے واقعے کے بعد پاکستان نے موت کی سزا پر عمل درآمد کے حوالے سے چلی آ رہی پابندی ختم کر دی تھی۔ دسمبر سے اب تک پاکستان میں قریب دو سو افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ حقوقِ انسانی کے علمبردار گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق صرف ایران اور چین ہی دو ایسے ممالک ہیں، جہاں پاکستان کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں انسانوں کی موت کی سزاؤں پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔