1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بین الاقوامی تنظیموں پر ماؤنوازوں کی مدد کا الزام

بھارتی حکام نے ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز اور انٹرنیشنل ریڈ کراس نامی بین الاقوامی امدادی تنظیموں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ریاست چھتیس گڑھ میں مسلح کارروائیوں میں ملوث ماؤنوازوں کی امداد کر رہی ہیں۔

default

چھتیس گڑھ ریاست میں ماؤنوازوں کی کارروائیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ضلع دانتے وادا کے پولیس سربراہ کے مطابق یہ ادارے انسانی امداد کے نام پر مسلح باغیوں کو معاونت فراہم کرتے ہیں۔ ان بین الاقوامی تنظیموں نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی حقوق انسانی قانون کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں۔

الزامات کا یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا، جب حراست میں لئے گئے دو مسلح باغیوں کے قبضے سے چھ ہزار ڈالر مالیت کی ادویات برآمد کی گئی تھیں۔ پولیس کے مطابق یہ باغی ان دنوں امدادی تنظیموں کے زیرسرپرستی چلنے والے ایک دواخانے میں زیرعلاج تھے۔

بین الاقوامی ریڈ کراس کے کوآرڈینیٹر برائے ابلاغ Alexis Heeb نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ’ہم ضلعی پولیس سربراہ کے اس بیان پر حیرت زدہ ہیں۔ خصوصاﹰ ایک ایسے موقع پر، جب اس ضلع میں ہماری تنظیم کا کوئی پروگرام بھی جاری نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت بین الاقوامی ریڈ کراس صرف بیجا پور ضلع کے کرترو گاؤں میں بنیادی صحت کے سینٹر میں سرگرم عمل ہے اور اس حوالے سے انتظامیہ پوری طرح مطلع ہے۔‘

Nach Zyklon in Birma, Rotkreuz-Helfer

بھارت کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ ملک بھر میں ماؤنوازوں کا مرکز سمجھی جاتی ہے اور اس ریاست میں جنگجوؤں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں معمول ہیں۔ ابھی حال ہی میں بین الاقوامی ریڈ کراس نے اس ریاست میں ایمبولینسوں کے نظام میں بہتری لانے اور ہنگامی طبی امداد کا ایک منصوبہ متعارف کروایا ہے۔

ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) پر بھی یہی الزامات عائد کئے گئے ہیں، جو اس ریاست میں موبائل کلینکس اور دیگر طبی امدادی فرائض کی انجام دہی میں کارفرما ہے۔

اس تنظیم نے بھی اپنے ایک بیان میں ایسے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنظیم کا اس علاقے میں جاری کسی تنازعے یا سیاسی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ شہریوں کی صحت کے شعبے میں امداد پر کام کر رہی ہے۔

رپورٹ : مُرلی کرشنن/عاطف توقیر

ادارت : ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس