1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بین الاقوامی تجارت کی وجہ سے آلودگی، لاکھوں اموات کی وجہ

ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ برآمدی مصنوعاتی صنعتوں سے پیدا ہونے والی آلودگی سالانہ بنیادوں پر سات لاکھ سے زائد انسانوں کی ہلاکت کی وجہ ہے۔

بدھ کے روز جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ان صنعتوں سے پیدا ہونے والی آلودگی اپنے قرب و جوار کے ساتھ ساتھ ہزاروں میل دور تک انسانوں کو متاثر کر رہی ہیں۔

سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں مثال کے طور پر بتایا گیا ہے کہ چین میں برآمدی مصنوعات کی تیاری کا ربط امریکا میں دل کے امراض، اسٹروک اور پھیپھڑوں کے سرطان جیسے امراض کی وجہ سے ہلاکتوں کے ساتھ ہے۔

ایسٹ انگلیا یونیوسٹی کے موسمیاتی تبدیلیوں کی اقتصادیات کے شعبے کے پروفیسر ڈابو گوآن کا کہنا ہے، ’’فضائی آلودگی کی وجہ سے قبل از وقت اموات ایک مقامی مسئلے سےکہیں بڑھ کر ہیں۔ تعداد دیکھی جائے، تو یہ ایک عالمی مسئلہ نظر آئے گا۔‘‘

گوآن نے مزید بتایا، ’’بین الاقوامی تجارت فضائی آلودگی کی وجہ سے اموات کا تعلق مصنوعات سازی کو ان مصنوعات کے استعمال سے خطرات کو الگ الگ دیکھا جانا چاہیے۔‘‘

بین الاقوامی تجارت کی وجہ سے قبل از وقت اموات کے موضوع پر اس طرز کی یہ پہلی رپورٹ ہے، جس کے لیے ڈیٹا سن 2007 سے اب تک کا ڈیٹا سامنے رکھا گیا ہے۔

Symbolbild - Kohlekraftwerk China (picture-alliance/dpa)

صنعتوں سے نکتا دھواں عالمی سطح پر لاکھوں اموات کا باعث ہے

سن 2007ء میں فضائی آلودگی کی وجہ سے قریب ساڑھے تین ملین اموات سامنے آئی تھیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر قریب سات لاکھ باسٹھ ہزار اموات کا براہ راست تعلق ایسی مصنوعات سازی سے ہے، جو بنی کہیں اور جب کہ استعمال کہیں اور ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ان میں سے قریب چار لاکھ گیارہ ہزار ایک سو افراد کی قبل از وقت موت کی وجہ دنیا کے مختلف علاقوں میں صنعتوں سے پیدا ہونے والے دھوئیں ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی صنعتوں سے ضرر رساں گیسوں کے اخراج کی وجہ سے عالمی سطح پر چونسٹھ ہزار افراد موت کے منہ میں جا رہے ہے، جو دوسرے ممالک یا خطوں کے مقابلے میں قریب دوگنا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مغربی یورپ اور امریکا میں استعمال ہونے والی مصنوعات، چین میں ایک لاکھ آٹھ ہزار قبل از وقت موت کا سبب بن رہی ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سستی اشیاء کی تیاری کے لیے فضائی آلودگی کے حوالے سے کمزور ضوابط انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث ہیں۔