1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بین الاقوامی بیتھوفن انعام، شامی مہاجر پیانو نواز کے نام

جرمنی کا بین الاقوامی بیتھوفن انعام شامی پیانو نواز ایہام الاحمد کو دیا جا رہا ہے۔ الاحمد شام میں یرموک کے فلسطینی مہاجر کیمپ میں رہتے تھے۔ ’دولت اسلامیہ‘ نے ان کا پیانو جلا دیا تھا، جس کے بعد وہ جرمنی آ گئے تھے۔

ستائیس سالہ شامی مہاجر ایہام الاحمد کو بین الاقوامی بیتھوون انعام جمعہ اٹھارہ دسمبر کی شام بون شہر میں منعقد ہونے والے ایک کنسرٹ کے دوران دیا جا رہا ہے۔ اس کنسرٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی ’ملک بدری نہیں، تعلیم‘ نامی ایک ایسے ادارے کو دی جائے گی، جو جرمنی میں شامی مہاجرین کو تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کام کرتا ہے۔

ایہام الاحمد کو ’یرموک کا پیانو نواز‘ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ دمشق میں واقع یرموک کے فلسطینی کیمپ میں رہتے تھے۔ شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران یہ فلسطینی کیمپ بھی تباہ ہو گیا تھا۔ الاحمد ان تباہ شدہ عمارتوں کے درمیان اور سڑکوں پر پیچھے رہ جانے والے باسیوں کے لیے پیانو بجایا کرتے تھے۔

تباہ شدہ عمارتوں کے سامنے شامی بچوں کے ہمراہ پیانو بجاتے ہوئے الاحمد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر ان کی شہرت کا سبب بنی تھی۔ الاحمد کو امید اور مزاحمت کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ دولت اسلامیہ کی جانب سے ان کا پیانو جلا دیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے یورپ کی جانب ہجرت اختیار کر لی تھی۔ الاحمد اس برس ستمبر میں جرمنی پہنچے تھے اور وہ اب یہیں مقیم ہیں۔

الاحمد فی الحال جرمنی کے شہر کرشن ہائم میں قائم پناہ گزینوں کے ابتدائی استقبالیہ مرکز میں رہ رہے ہیں اور جلد ہی انہیں جرمنی کے کسی شہر میں پناہ گزینوں کے کسی کیمپ میں منتقل کر دیا جائے گا۔ کرشن ہائم میں بھی الاحمد شامی مہاجرین کے بچوں کے ہمراہ پیانو بجاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

جرمنی کے پبلک براڈکاسٹر زیڈ ڈی ایف نے ہجرت کر کے جرمنی پہنچنے والے اس فنکار پر ایک پروگرام ریکارڈ کرنا شروع کیا ہے۔ یہ پروگرام زیڈ ڈی ایف پر آئندہ برس کے آغاز میں نشر کیا جائے گا۔

بین الاقوامی بیتھوفن انعام برائے انسانی حقوق، آزادی، غربت کا خاتمہ اور شمولیت دینے کا فیصلہ فنون لطیفہ کے معتبر اداروں سے وابستہ افراد نے کیا ہے۔ اس ایوارڈ کو موسیقاروں اور ثقافت سے وابستہ اداروں کا تعاون بھی حاصل ہے۔ ابتدائی طور پر یہ انعام پہلی مرتبہ اگلے برس دیا جانا تھا۔ تاہم اس انعام کے اجراء کے بانیوں نے یورپ اور مہاجرین کی مجموعی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اسی سال یہ خصوصی انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

DW.COM