1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بین الاقوامی افغانستان کانفرنس کا کابل میں آغاز

افغانستان میں دیرپا قیام امن اور تعمیرنو سے متعلق کابل میں ایک بار پھر ایک ایسی بین الاقوامی کانفرنس ہو رہی ہے، جس میں ہندو کش کی اس ریاست میں اب تک کی مثبت اور منفی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیاجا رہا ہے۔

default

کانفرنس کے موقع پر کابل میں سخت سیکیورٹی تعینات ہے

کابل میں جاری بین الاقوامی افغانستان کانفرنس میں 70 سےزائد ملکوں، بین الاقوامی اداروں اور علاقائی تنظیموں کے اعلیٰ نمائندے شریک ہیں۔ اس اجتماع میں امریکہ کی نمائندگی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کر رہی ہیں۔

افغانستان کے لئے یہ بین الاقوامی امدادی اجتماع اپنی نوعیت کی نویں انٹرنیشنل کانفرنس ہے، جس کی صدارت اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور افغان صدر حامد کرزئی مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔

Dossierbild 3 Afghanistan Konferenz

صدر حامد کرزئی اس سال جنوری میں لندن میں ہونے والی بین الاقوامی افغانستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، فائل فوٹو

اس کانفرنس میں افغانستان کی طرف سے بہتر حکومتی کارکردگی، معاشی ترقی، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کے احترام کی صورت حال میں بہتری کے حوالے سے کئی تجاویز پیش کی جائیں گی۔

اس کے علاوہ بین الاقوامی برادری سے یہ مطالبہ بھی کیا جائے گا کہ مختلف ملکوں اور اداروں نے افغانستان کو اس کی تعمیر نو کے لئے مجموعی طور پر جو 13 بلین ڈالر مہیا کرنے کے وعدے کر رکھے ہیں، ان میں سے 50 فیصد رقوم اگلے دو برسوں میں افغانستان کو خود کابل حکومت کے ذریعے مہیا کی جائیں۔

سال رواں کی پہلی ششماہی میں افغانستان سے متعلق ترجیحات وفاقی جرمن حکومت کے لئے خارجہ سیاسی حوالے سے انتہائی مشکل موضوع بنی رہیں۔ تب افغانستان میں سلامتی کی صورت حال مزید خراب ہوتی گئی، وہاں فرائض انجام دینے والے وفاقی جرمن دستوں میں شامل مزید کم ازکم سات فوجی ہلاک ہو گئے اور جرمنی میں افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے سرکاری طور پر ’جنگ‘ کا لفظ بھی استعمال کیا جانے لگا حالانکہ پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا۔

اسی لئے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو برلن میں وفاقی پارلیمان کے ایوان زیریں میں افغانستان سے متعلق اپنے گزشتہ حکومتی بیان میں یہ کہنا پڑا کہ افغانستان میں زیادہ تر غیر ملکی فوجیوں کو ہر روز جس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، انہیں اگر خانہ جنگی کے بجائے صرف جنگ کا نام بھی دیا جائے تو وہ اسے بخوبی سمجھ سکتی ہیں۔

تب انگیلا میرکل نے کہا تھا:’’جس کسی کو بھی ہر روز اپنی جان کے شدید خطرے کا سامنا رہے، پھر یہ بات بھی دھیان میں رکھنا پڑے کہ اسے کسی بھی وقت چھپ کر کئے جانے والے حملے کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے یا اس پر گھات لگا کر فائرنگ کی جا سکتی ہے، وہ یہ نہیں سوچتا کہ جن حالات کا اُسے سامنا ہے، اُنہیں قانونی طور پر خانہ جنگی کہنا زیادہ بہتر ہو گا یا صرف ایک جنگ۔‘‘

وفاقی جرمن حکومت کی اسی سوچ کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے منگل بیس جولائی کے روز کابل میں اس بین الاقوامی افغانستان کانفرنس میں برلن کی نمائندگی کریں گے۔

ویسٹر ویلے کہتے ہیں: ’’لندن میں ہم نے ایک ایسے بنیادی پروگرام کی منظوری دی تھی، جس کے تحت طالبان عسکریت پسندوں کو دوبارہ افغان معاشرے کا حصہ بنایا جانا تھا۔ اس پروگرام کے بارے میں کابل میں اب تفصیلی مشاورت کی جائے گی، اور پھر اُن مالی وسائل کی منتقلی سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا، جن کی افغانستان کو فراہمی کی برلن حکومت نے حامی بھر رکھی ہے۔‘‘

Flash-Galerie Deutsche Hilfprojekte in Afghanistan

افغان شہر ہرات میں پانی کی فراہمی کے ایک بہت بڑے منصوبے کی افتتاحی تقریب کے بعد لی گئی وہاں‍ کام کرنے والے جرمن انجینئرز کی ایک تصویر، فائل فوٹو

جرمن وزیر خارجہ ویسٹر ویلے کو امید ہے کہ کابل کی اس کانفرنس میں افغان حکومت کی طرف سے اس بارے میں ٹھوس تجاویز پیش کی جائیں گی کہ وہ ملک میں بدعنوانی میں کمی کے لئے کس طرح کے خصوصی اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور ملک کی مرکزی حکومت کے طور پر اپنی اہلیت میں کس طرح بہتری لانے کی خواہش مند ہے۔

جرمنی، جس کے افغانستان متعینہ فوجی دستوں کی تعداد ساڑھے چار ہزار کے قریب ہے، دیگر اتحادی ملکوں کے برعکس اب تک افغانستان سے اپنے دستوں کے مکمل انخلاء کے لئے کسی تاریخ کے تعین سے احتراز کر رہا ہے۔ برلن حکومت نے اس سلسلے میں اب تک محض اتنا ہی کہا ہے کہ اگلے برس یعنی سن 2011ء سے افغانستان سے جرمن فوجیوں کا انخلاء شروع ہو جائے گا۔ یہ عمل کتنے عرصے میں مکمل ہو گا، یہ بات ابھی تک غیر واضح ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امجد علی

DW.COM