1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کی سالانہ رپورٹ

بین الاقوامی ادارہ برائےمہاجرت نےاپنی سالانہ رپورٹ میں دنیامیں مہاجرین کی موجودہ تعدادقریب 200 ملین بتائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تاثرغلط ہے کہ مغربی ملکوں میں داخلے کے لئے زیادہ ترمہاجرین سمندری راستے استعمال کرتے ہیں۔

default

جرمنی میں اکثر ترک تارکین وطن نے اپنے ریستوراں اور اشیائے خوراک کی دکانیں کھول رکھی ہیں

اس ادارے سے منسلک اور سالانہ رپورٹ تیار کرنے والوں میں سے ایک Gervais Appave کے مطابق ترقی پذیر ممالک سے زیادہ تر افراد سیاحتی ویزے پرمغربی ممالک میں داخل ہوتے ہیں اور پھر یہیں کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ بھوک نہیں بلکہ مہاجرت کا ایک بڑا سبب عالمگیریت ہے۔

"عالمی رپورٹ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ یہ عالمگیریت ہی ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہو رہی ہے۔ انسانی ہجرت کی ایک اوربڑی وجہ معاشی صورت حال بھی ہے جس سے مراد روزگار یا پھر بہتر روز گار کی تلاش ہے۔"

روز گارکی تلاش میں ہجرت کرنے والوں میں اضافے کی وجہ صرف غریب اورناخواندہ افراد ہی نہیں بلکہ دنیا میں اعلیٰ تربیت یافتہ افراد کی بڑھتی مانگ نے بھی نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں زبردست اضافہ کیا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ امیر صنعتی ممالک میں کم پڑھے لکھے اورغیرہنرمند افراد کے لئے بھی روز گار کے مواقع موجود ہیں۔

Deutschland Ausländer Integration

زیادہ تر ترک نسل کے تارکین وطن کی وجہ سے جرمنی میں اسلام عیسائیت کے بعد دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے

اس کا بڑاسبب یہ ہے کہ ان ممالک کے مقامی افراد زیادہ تر زراعت یا پھر ہوٹلنگ کے شعبے میں کام کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔ Gervais Appave کے بقول بین الاقوامی سطح پر مہاجرت کا یہ رجحان اگلے قریب پچاس برس تک جاری رہے گا۔

مستقبل میں پورپ کو کام کرنے والوں کی کمی کا مسئلہ درپیش ہو گا، مثال کے طور پر صحت کے شعبے میں۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یورپ میں جلد ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ تارکین وطن کے لئے شروع کی جانے والی امیگریشن سکیم کی طرز پرکم پڑھے لکھے افراد کے لئےبھی کوئی پروگرام متعارف کرایا جائے گا۔

ادارہ برائے مہاجرت کی سالانہ رپورٹ کے مطابق وسطی اورمغربی یورپ میں تارکین وطن کی سب سے بڑی تعداد جرمنی کا رخ کرتی ہے۔ جرمنی میں 2005 میں دس ملین سے زائد تارکین وطن آباد تھےجبکہ فرانس اور برطانیہ میں تارکین وطن کی تعداد 6.5 اور 5.4 ملین ریکارڈ کی گئی۔ ایک اندازے کے مطابق سن 2000 سے 2005 تک کے درمیانی عرصے میں ہر سال تین ملین افراد نے صنعتی ممالک کا رخ کیا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ عالمی اقتصادی بحران مہاجرت کی رفتار میں کمی لا سکتا ہے۔ لیکن بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کی رپورٹ کےمطابق جیسے ہی اقتصادی حالات میں بہتری آئی، نقل مکانی کاسیلاب ایک مرتبہ پھر تیزرفتارہوجائےگا۔