1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بینک شہریوں کو ہراساں نہ کریں: سندھ ہائی کورٹ کا حکم

پاکستان میں سندھ ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ نے گیارہ شہریوں کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے بینکوں کو حکم دیا ہے کہ وہ کریڈٹ کارڈ پر لیے گئے قرضوں کی وصولی کے لیے صارفین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کردیں۔

default

مالیاتی بحران: بینکوں اور حکومتوں کے لیے قرضے اور بیل آؤٹ تو ٹیکس دہندگان شہریوں کے لیے کیوں نہیں؟

حکم نامے میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ قرضوں کی وصولی کے لیے گھروں یہ دفاتر پر پرائویٹ فورسز کے ساتھ چھاپے نہ مارے جائیں اور صرف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ عدالتِ عالیہ کے اس فیصلے کی جہاں شہریوں نے پزیرائی کی ہے وہیں پاکستانی سول سوسائٹی کی شخصیات نے بھی اس حکم نامے کا خیر مقدم کیا ہے۔

سول سوسائٹی کے سرکردہ رہنما ناظم ایف حاجی نے ڈائچے ویلے اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ایک اہم فیصلہ لیا ہے چوں کہ بینکاری نظام میں بہت زیادہ حرص اور لالچ پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق بینکوں نے جانتے ہوئے بھی کہ لوگ قرضہ ادا نہیں کر پائیں گے، لوگوں کو قرضہ لینے پر مائل کیا۔ ناظم ایف حاجی کہا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں قرضوں اور واجبات کی وصولی کی جاتی ہے مگر وہ ایک مہذب طریقے سے کی جاتی ہے۔

عدالت کے اس حکم سے قبل کراچی سمیت ملک کے دیگر حصّوں میں بینکوں کے ’ریکوری‘ افسران اور بینکوں کی نجی فورسز نے کریڈٹ کارڈ پر قرضہ لینے والے افراد کو ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا تھا جو معاشی بدحالی، بے روزگاری اور مہنگائی کے باعث وقت پر واجبات ادا نہیں کر پارہے تھے۔ بعض اطلاعات کے مطابق بینکوں کے اہلکاروں نے بعض قرض دہندگان کے گھروں میں گھس کر لوگوں کو ذد و کوب بھی کیا، فون پر دھمکیاں دیں، اور یہ کارروائیاں عورتوں اور مردوں کے ساتھ بلا امتیاز جاری تھیں۔

چند روز قبل بینکوں کی نجی فورسز نے قرض ادا نہ کرسکنے والے ایک نوجوان کے گھر میں گھس کر وہاں رہنے والوں کو ہراساں کیا جس کے بعد نوجوان نے خود کشی کرلی۔