1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بینکوں کے سربراہان کی غیر معمولی تنخواہیں

پاکستان میں بینکوں کے اعلیٰ افسران ایک عام پاکستانی شہری کے مقابلے میں 367 گنا زیادہ تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ بینکوں کے سی ای اوز کی آمدن انہی بینکوں کے دیگر ملازمین کی نسبت بھی 56 گنا زیادہ ہے۔

پاکستانی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2015 میں پاکستان کے 27 کمرشل بینکوں کے چیف ایگزیٹیو افسران (سی ای اوز) نے تنخواہوں اور مراعات کی مد میں 1.6 بلین پاکستانی روپے وصول کیے یعنی ان ستائیس افراد میں سے ہر ایک نے اوسطاﹰ قریب 60 ملین روپے سالانہ حاصل کیے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2015ء کے دوران ان ستائیس کمرشل بینکوں کے سی ای اوز نے انہی بینکوں میں کام کرنے والے دیگر ملازمین کی نسبت 56 گنا زیادہ تنخواہیں وصول کیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سن 2015 میں تنخواہ اور مراعات کی مد میں سب سے زیادہ رقم یونائیٹڈ بینک لیمیٹڈ کے سی ای او نے وصول کی جو کہ 127.3 ملین روپے تھی۔ بینک الفلاح کے سی ای او نے 97.1 ملین، سلک بینک کے سی ای او نے 86.1 ملین، مسلم کمرشل بینک کے سی ای او نے 84.7 ملین جب کہ حبیب بینک لمیٹڈ کے سی ای او نے 75.1 ملین روپے کمائے۔

کیا بینکوں کے سربراہان کو اتنی مراعات اور تنخواہیں ملنا جائز ہیں؟ اس حوالے سے ڈی ڈبلیو نے اورانوسٹمنٹ بینکنگ فرم ’جے ایس گلوبل کیپیٹل‘ کے چیف کمرشل آفیسر خرم شہزاد سے بات چیت کی تو ان کا کہنا تھا، ’’زیادہ مراعات لینا کوئی معیوب بات نہیں ہے اگر آپ کام کرتے ہیں تو آپ کو ریوارڈ ملتا ہے۔‘‘ شہزاد کا کہنا ہے کہ سن 2009 سے سن 2015 تک پاکستان کے پہلے دس بینکوں کی اوسط سالانہ ترقی 13 فیصد رہی جو پاکستان کی مجموعی سالانہ ترقی کی رفتار سے کہیں زیادہ ہے۔ شہزاد کی رائے میں سی ای اوز کو ملنے والی تنخواہیں اور مراعات بینک کے منافع سے منسلک ہوتی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ بینک جتنا زیادہ منافع حاصل کرے گا اسی اعتبار سے بینک کے اعلیٰ افسران کو بھی تنخواہیں اور دیگر مراعات دی جائیں گی۔

بینکوں کے اعلیٰ افسران اور عام لوگوں کی تنخواہوں میں اتنے زیادہ فرق کے بارے میں بحث صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک میں بھی گزشتہ چند برسوں سے جاری ہے۔

امریکا میں 2008ء کے مالی بحران کے بعد دیکھا گیا کہ مختلف بینکوں کے سی ای اوز، جن کی کارکردگی معیاری نہیں تھی، کو بھی بہت زیادہ مراعات اور تنخواہیں دی جا رہی تھیں۔

ماہر اقتصادیات ثاقب شیرانی نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’موجودہ صورت حال میں پاکستان میں بینکوں کے سی ای اوز نسبتاﹰ کافی زیادہ معاوضہ وصول کرر ہے ہیں۔ پچھلے دو تین سالوں سے پاکستان کے زیادہ تر بینک ’گورنمنٹ سکیورٹیز‘ میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جس سے انہیں ’رسک فری‘ منافع مل رہا ہے۔ اس وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بینکوں کے سی ای اوز غیر معمولی کارکردگی دکھا رہے ہیں اور اس وجہ سے انہیں زیادہ تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔‘‘

ثاقب شیرانی کہتے ہیں کہ یہ سوال پوچھا جانا بھی جائز ہے کہ نجی بینک مراعات تقسیم کرتے ہوئے اپنے شیئر ہولڈرز کو بھی ان کا جائز حصہ دے رہے ہیں یا نہیں۔ شیرانی کے مطابق بینکوں کے سی ای اوز اور دیگر ملازمین کی تنخواہوں میں فرق کو کم از کم رکھنا ان بینکوں کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

اس کے برعکس خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں کا تعین کرتے وقت ہر بینک کی اپنی حکمت عملی ہوتی ہے۔عام طور پر اعلیٰ افسران کو زیادہ مراعات دی جاتی ہیں کیوں کہ ان پر ذمہ داری بھی زیاہ ہوتی ہے اور ان کی قائدانہ صلاحیتیں بینک کا منافع بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم شہزاد کے مطابق اس بات پر بحث کی جا سکتی ہے کہ عام ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کو بھی بڑھایا جائے۔

DW.COM