1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بینکنگ بہتری کی جانب

سرمایہ کاری بینکنگ کی وجہ سے ان اداروں کی مالی مشکلات دور ہوگئی ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ بزنس ایک مرتبہ پھر معمول کے مطابق ہے اور ایک لحاظ سے بینکوں نے عالمی اقتصادی بحران سے کچھ نہ کچھ سیکھ لیا ہے۔

default

گزشتہ صدی میں تیس کی دہائی کے دوران پیدا ہونے والی کساد بازاری کے بعد تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی بحران کو اب دوسال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس بحران نے جہاں عام افراد  پر منفی اثرات مرتب کئے وہیں حکومتوں کو اربوں مالیت کے امدادی پیکج متعارف کرانے پر بھی مجبورکیا۔ اب صورتحال کیسی ہے؟ کیا بینکوں نے اس بحران سےکچھ سبق حاصل کیا ہے؟ کیا اُن کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟ یا ابھی بھی کاروبار پہلے کی طرح معمول کے مطابق چل رہا ہے؟

’بینکنگ کا شعبہ اب بھی بہت بری حالت میں ہے اور اس کے بعد یا تومنشیات فروشوں یا پھر طوائفوں کا نمبرآتا ہے‘۔ یہ الفاظ ایک بینکر نے

The Allied Irish Banks AIB headquarters in Dublin

آئر لینڈ کا ایک بینک

بینگنک کے موضوع پر ہونے والے ایک اجلاس میں ادا کئے۔ اس شعبےکے ماہر رائن ہارڈ شمڈ کہتے ہیں کہ مالیاتی بحران نے بینکوں کی ساکھ کو بری طرح متاثرکیا ہے۔ ان کا کہنا ہے  کہ  یہ بے اعتمادی بلاوجہ نہیں ہے۔ بہت سے بینکوں نے صورتحال کا غلط اندازہ لگایا۔کچھ بینکوں نے ایسے اقدامات اٹھائے، جن کا جواز ہی نہیں بنتا تھا۔ دوسرے بینکوں نے اس بحران کا ڈٹ کے مقابلہ کیا جبکہ کچھ دیوالیہ ہوگئے جیسا کہ لیمہن برادرز۔

بینکوں کے ساکھ کو بہترکرنے کی لئے جو مہم چلائی گئی ہے، اس کے ابھی تک کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ سکے ہیں۔بینکنگ کے شعبے میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نئے قواعد و ضوابط بھی ایک متنازعہ مسلئہ بن چکا ہے۔ امریکہ میں صدر اوباما رسک بینکاری کو مناسب خیال نہیں کرتے۔ یہاں یورپ میں ’بازل 111‘ نامی

Bank of China

بینک آف چائنا کا دروازہ

ایک نظام پر صلاح و مشورے جاری ہیں۔ اس میں بینکوں کومالیاتی بحران کا بہتر طریقے سے مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

حصص کا کاروبار کرنے والےکلاؤس نی ڈنگ کہتے ہیں کہ  اس سلسلے میں الفاظ کی نہیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ نی ڈنگ کہتے ہیں کہ اگر نظر ڈالی جائے تومعلوم ہو گا کہ آجکل کن موضوعات نے یکدم اہمیت حاصل کر لی ہے۔ تنخواہوں پر، قواعد و ضوابط تبدیل کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ یہاں میں کہوں گا کہ سوچ بدلنا ضروری ہے اور یہ پوچھا جانا چاہیے کہ اصل میں کن چیزوں کو تبدیل کیا جانا چاہیے؟

موجودہ صورتحال میں بہت سے بینکوں کو اس دوران اربوں کا فائدہ بھی  ہوا ہے۔ جیسا کہ ڈوئچے بینک،BNP، یا بارکلے بینک کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ بینک مالیاتی بحران کے سائے سے باہر نکل آئے ہیں۔

رپورٹ :عدنان اسحاق

ادارت: عابد حسین