1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’بینظیر کی نظر بندی ختم کی جائے‘

سابق وزیراعظم بینظیر کی نظر بندی کے خلاف شدید عالمی ردعمل سامنے آیا ہے۔ امریکہ نے تشویش ظاہر کی اورجرمن حکومت نے نظربندی ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

جرمن وزیر خارجہ شٹائن مائر

جرمن وزیر خارجہ شٹائن مائر

پاکستان کے موجودہ حالات صرف پاکستانیوں کے لئے ہی پریشانی کا باعث نہیں بننے ہوئے ہیں بلکہ ساتھ ہی عالمی سطح پر بھی اس پر تشویش ظاہر کی جارہی ہے۔ ایمرجنسی لگنے کے بعد سے ہی عالمی ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا تھا۔ سابق وزیر اعظم بینظیر کی نظر بندی پر جرمن وزارت خارجہ نے پاکستانی قیادت سے اپیل کی ہے کہ بے نظیر کی نظربندی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ جرمن دفتر خارجہ کے ترجمان ماٹن ییگر نے کہا کہ ہم بینظیر کے ساتھ لا تعداد سیاسی کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع رابرٹس گیٹس نے حکومتی اقدام پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا اس اگر پاکستان کے اندرونی حالات میں استحکام نہیں ہو گا تو دوشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستانی فوج کی توجہ ہٹ سکتی ہے۔ اور دہشت گردانہ کاروائیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف نہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے انتخابات کا اعلان ک ردیا ہے کہ جو خوش آئند بات ہے۔

ایمرجنسی کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں مظاہرے بھی جاری ہیں۔ لندن میں ایک مظاہرے میں کہ جس میں عام افراد کے ساتھ سیاسی کارکنوں نے بھی شرکت کی ، حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایمرجنسی کا بفاذ ایک غیر آئینی اقدام ہے اور اسے جلد از جلد ختم کیا جانا چاہیے۔ نیو یارک ، واشنگٹن میں بھی امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے ایمرجنسی کے خلاف مظاہرے کئے ہیں۔ جن میں عدلیہ اورمیڈیا کو آزاد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین نے کہا کہ حکومت کا یہ قدم
جمہوریت کے خلاف ہے ۔

وفاقی جرمن پارلیمان نے پاکستان کی موجودہ صورتحال کو موضوع بحث بنایا ۔اس موقع پر مختلف جرمن سیلسی جماعتوں نے اظہار خیال کیا۔ سب ہی متفقو طور پر پاکستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ ایمرجنسی کو جلد ختم کیا جائے۔


Audios and videos on the topic