1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بینظیر بھٹوکے قتل پر عالمی برادری کا ردعمل

امریکہ ، یورپ ، چین اور روس سمیت کئی دیگر ممالک نے بینظیر بھٹو کے قتل کی کڑے الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے ایک بزدلانہ اقدام قرار دیا ہے۔

default

امریکی ردعمل میں بینظیر کی موت کو پاکستانی سیاست کے لئے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ امریکی صدر جارج بش نے کہا کہ اس حملے کہ ذمہ داروں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہچانا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں اب بھی ایسے عوامل موجود ہیں کہ جو ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
بش نے مزید کہا ’ امریکہ قاتلوں اور انتہا پسندوںکی جانب سے کئے گئے اس بزدلانہ حملے کی کڑی الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ کہ جن کا مقصد پاکستان میں جمہوریت کو نقصان پہنچانا تھا۔ بینظیر کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

افغان صدر حامد کرزئی نے اپنے ایک تعزیتی بیان میں اس حملے کو کھلی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ صرف بینظیر پر ہی نہیں بلکہ ساتھ ہی پاکستان اور جمہوریت پر کیا گیا ہے۔

بھارت نے اس حملے کی کڑے لفظوں میں مذمت کی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بینظیرکا سیاست میں کردار غیر معمولی تھا۔ انہوں نے پاکستانی بلکہ ساتھ ہی جنوبی ایشیا کے خطے کی سیاست پر اہم نقوش چھوڑے ہیں کہ جو ہمیں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ انہوں نے مذید کہا کہ ان کے قتل سے ایک مرتبہ پھر ثابت ہو گئی ہے جنوبی ایشیائی خطے میں اس قسم کے بزدلانہ اور دہشتگردانہ حملوں کا خطرہ ہمیشہ سے موجود ہے اور ہمیں ان کو روکنے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے مذید کہا کہ بینظیر کی موت سے ہم ایک غیر معمولی شخصیت سے محروم ہو گئے ہیں۔ کہ جس نے ہمیشہ جمہوریت کے لئے جدو جہد کی ۔بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکھر جی نے بھی اس حملے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ دونوں رہنماوں نے نہ صرف بھٹو خاندان بلکہ ساتھ ہی پاکستانی عوام کے نام بھی تعزیتی پیغام بھیجے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم Gorden Brown نے بینظیر کی ہلاکت پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا بینظیر کو جمہوریت کی بحالی کے لئے پاکستان واپس آئیں تھیں او انہیں جمہوریت کے دشمن دہشتگردوں نے قتل کر دیا۔ بینظیر بھٹو کو قتل کرنے والے پاکستان میں جمہوریت کو ختم نہیں کر سکیں گے۔
برطانیہ کے وزریر خارجہ نے David milliband نے بینظیر کے قتل پر گہرے صدمے اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ انتہا پسند عناصر ملک کی ہر اس شخصیت کے لئے خطرہ ہیں کہ جو جمہوریت کے لئے کام کر رہا ہے۔ اور ان انتہا پسندوں کو ہمیں کسی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دینا چاہے۔ Milliband نے مذید کہا بینظیر بھٹو کے پاکستان سے محبت ڈکھی چھپی نہیں تھی۔ملک واپس لوٹنے پر ان کو اس بات کا علم تھا کہ ان پر اس طرح کے حملے کئے جائیں گے لیکن ان سب خطرات کے باوجود انہوں نے یہی کہا تھا کہ ملک کو ان کی ضرورت ہے۔

روس کی وزرات خارجہ نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی ہے ۔ وزرت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں امید ہے کہ پاکستانی حکومت ملک میں استحکام کو یقینی بنانے کے لئے ضروری اقدامات کرے گی۔ بیان میں بینظیر کی موت کو ملک میں جاری جمہوری عمل پرایک حملہ قرار دیا ہے۔

فرانس ، اٹلی ، ویٹی کن ، مصر ، متحدہ عرب امارات ، جاپان ، چین اور کئی دیگر ممالک کی طرف سے بھی بینظیر کے قتل کی مذمت کی گئی ہے۔