1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بیلجیم میں کیتھولک کلیسا کے دفاتر پر چھاپہ

بیلجیم میں پولیس نے جنسی زیادتیوں کے سکینڈل کے حوالے سے کیتھولک کلیسا کے صدر دفاتر پر چھاپہ مارا ہے۔ اس موقع پر بیلجیم سے تعلق رکھنے والے کارڈینل کی رہائش گاہ سےگزشتہ بیس برسوں کا کمپیوٹر ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

default

یہ کارروائی بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں کی گئی۔ اس موقع پر شہر کے شمال میں واقع میچیلین کے آرچ بشپ گاڈ فریڈ ڈانیلز کی رہائش گاہ کا محاصرہ کیا گیا۔ وکلاء استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں درجنوں سیکیورٹی اہلکاروں اور تفتیش کاروں نے حصہ لیا۔

Map of Belgium

بیلجیم کے بشپ صاحبان سیکس سکینڈل پر معافی بھی مانگ چکے ہیں

انہوں نے بتایا کہ یہ اقدام بعض کلیسائی ارکان کی جانب سے بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کے الزامات کا نتیجہ ہے۔ استغاثہ کا مزید کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد یہ پتا چلانا بھی ہے کہ کہیں جنسی زیادتی کے الزامات پر پردہ ڈالنے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی۔

آرچ بشپ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ پولیس نے بشپ کی رہائش گاہ سے ایک کمپیوٹر قبضے میں لے لیا ہے۔ تاہم پولیس نے چھاپے کے دوران چرچ کے کسی بھی اہلکار سے پوچھ گچھ نہیں کی۔ خیال رہے کہ آرچ بشپ ڈانیلز ان الزامات کے حوالے سے کسی بھی طرح کی پردہ پوشی کی تردید کر چکے ہیں۔

بعض دیگر ممالک کی طرح بیلجیم میں بھی کیتھولک چرچ کو کلیسائی ارکان کی جانب سے جنسی زیادتیوں کے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ وہاں یہ سلسلہ رواں برس اپریل میں اس وقت شروع ہوا، جب ایک طویل دورانیے تک بشپ کے منصب پر فائز رہنے والے راجر وانگے لووے نے جنسی زیادتی کے مرتکب ہونے کا الزام قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔

بعدازاں مئی میں بیلجیم کے بشپس نے ایک مشترکہ اعلامیے میں کلیسائی ارکان کی جانب سے جنسی زیادتیوں اور ان معاملات پر طویل خاموشی پر معافی مانگی تھی۔

Vatikan Papst Benedikt XVI in Rom

پوپ بینیڈکٹ شانزدہم

بیلجیم میں یہ کارروائی وہاں تعینات ویٹیکن کے سفیر کی مقامی بشپس کے ساتھ ملاقات کے موقع پر سامنے آئی ہے۔

یورپ، امریکہ اور برازیل میں کلیسائی ارکان کے خلاف جنسی زیادتیوں میں ملوث ہونے اور ایسی سرگرمیوں کو چھپائے جانے کے الزامات گزشتہ برس سامنے آئے تھے۔

قبل ازیں پاپائے روم پوپ بینیڈکٹ شانزدہم کلیسائی ارکان کی جانب سے جنسی زیادتیوں کا نشانہ بننے والے افراد سے معافی مانگ چکے ہیں۔ وہ آسٹریلیا، امریکہ اور مالٹا کے دوروں کے مواقع پر جنسی زیادتیوں کا نشانہ بننے والے افراد سے ملاقات بھی کر چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ پاپائے روم نے کلیسائی ارکان کی جانب سے ان زیادتیوں میں ملوث ہونے پر واضح طور پر معذرت بھی کی تھی۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM