1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بیلجیم میں دہشت گردی کا خطرہ: ’برسلز لاک ڈاؤن‘ کا دوسرا دن

بیلجیم کی حکومت نے دہشت گردی کے شدید خطرے کے باعث ملکی دارالحکومت برسلز کو آج اتوار کے روز مسلسل دوسرے دن بھی ’لاک ڈاؤن‘ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور سڑکوں پر پولیس اور فوجی دستے گشت کر رہے ہیں۔

برسلز سے، جہاں یورپی یونین اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے صدر دفاتر بھی ہیں، آج اتوار بائیس نومبر کے روز ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ شہر میں میٹرو ٹرین سروس اور پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام کل سے ہی معطل ہے اور حکومت کو یہ فیصلہ اس لیے کرنا پڑا تھا کہ حکام کو ملنے والی خفیہ معلومات کی بنا پر کسی بڑے دہشت گردانہ حملے کا شدید خطرہ تھا۔

فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں تیرہ نومبر کو ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی تفتیش کے دوران بیلجیم کے حکام کی نظریں اس لیے بھی برسلز کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ ایک اہم مشتبہ ملزم صالح عبدالسلام ان حملوں کے بعد پیرس سے واپس برسلز پہنچ گیا تھا۔ وہ برسلز ہی کا رہنے والا ہے اور حکام پوری شدت سے اس کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بیلجیم کے وزیر داخلہ ژان ژامبون نے آج بتایا کہ سکیورٹی اہلکار صرف صالح عبدالسلام ہی کو تلاش نہیں کر رہے، جو پیرس سے واپس برسلز پہنچ گیا تھا بلکہ انہیں کئی ایسے دیگر مشتبہ ملزمان کی بھی تلاش ہے، جو مبینہ طور پر پیرس کے ان حملوں میں ملوث رہے ہیں، جن میں کم از کم 130 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ژان ژامبون نے بیلجین نیوز ایجنسی بیلگا کو بتایا، ’ہم لمحے لمحے کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ کوئی چھپانے کی بات نہیں ہے کہ دہشت گردانہ حملوں کا شدید خطرہ ہے۔ ہم ہر وہ اقدامات کر رہے ہیں، جو ہم کر سکتے ہیں۔ ہمیں یہ (برسلز کے لاک ڈاؤن سے متعلق) غیر معمولی اقدامات اس لیے کرنا پڑے کہ ہمیں کئی ایسے مشتبہ افراد کی تلاش ہے، جو ابھی تک قانون کی گرفت میں نہیں آئے۔‘‘

بیلجیم کی حکومت نے ہفتہ اکیس نومبر کے روز ملک میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح بڑھا کر چار یعنی سب سے اونچی کر دی تھی اور اس دوران نہ صرف شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا پورا نظام بلکہ زیادہ تر دکانیں اور ریستوراں بھی بند کر دیے گئے تھے اور عام شہریوں سے کہا گیا تھا کہ اگر وہ اپنے گھروں سے باہر نکلیں تو عام طور پر بہت پرہجوم رہنے والے علاقوں سے دور رہیں۔

Brüssel Höchste Terrorwarnstufe Sicherheitskräfte

ممکنہ حملوں کے پیش نظر برسلز میں میٹرو ٹرین سروس اور پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام اتوار کو بھی بند ہے

اسی دوران نیوز ایجنسی روئٹرز نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ برسلز شہر کو مسلسل دوسرے روز بھی ’لاک ڈاؤن‘ کی حالت میں رکھنے کا فیصلہ خفیہ اداروں کی رپورٹوں کے بعد کیا گیا اور آج اتوار کی شام اس بارے میں دوبارہ ایک اجلاس میں مشاورت کی جائے گی کہ آیا اس ’لاک ڈاؤن‘ کو جاری رکھا جانا چاہیے۔

یہ مشاورت ملکی حکومت کے قائم کردہ اس بحرانی مرکز کی سطح پر کی جائے گی، جو براہ راست برسلز حکومت کو اپنی تجاویز پیش کرتا ہے اور جس میں ملکی انٹیلیجنس کے علاوہ پولیس اور عدلیہ کے اعلیٰ اہلکاروں کو بھی نمائندگی حاصل ہے۔