1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بیلجیم میں انتخابات کے بعد بھی سیاسی بے یقینی

بیلجیم کے پارلیمانی انتخابات میں ’نیو فلیمش الائنس‘ کامیاب ترین سیاسی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ تا ہم کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی اور ملک میں جاری سیاسی بحران کے جلد خاتمے کے آثار نظر نہیں آتے۔

default

NVA یعنی نیو فلیمش الائنس نے اگر ڈَچ زبان بولنے والے شمالی حصے فلینڈرزمیں بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی ہے تو ملک کے جنوبی صوبے والونیا میں سوشلسٹ پارٹی کا پلڑا بھاری رہا ہے۔ فلینڈرز میں بیلجیم کی 60 فیصد آبادی رہتی ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بیلجیم میں کسی صوبے کے لئے زیادہ خود مختاری اور مکمل آزادی کی وکالت کرنے والی کوئی جماعت قومی سطح پرکامیاب ہوئی ہے۔ فرانسیسی زبان بولنے والے والونیا میں 39 سالہ بارٹ دے ویفر کی جماعت NVA کی کوئی ساتھی جماعت نہیں ہے۔ اِسی لئے یہ جماعت نئی قومی پارلیمان کی مضبوط ترین قوت نہیں بن سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ بارٹ دے ویفر کی جگہ کسی اور کے وزیراعظم بننے کی امید زیادہ ہے۔ وزیراعظم ایو لاتیرم کی کرسچئن ڈیموکریٹ جماعت اوراس کی اتحادی لبرل پارٹی کو شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

Wahlen in Belgien Bart De Wever Flash-Galerie

39سالہ بارٹ دے ویفر کی جماعت NVA کامیاب تو ہوئی ہے تاہم ان کا وزیراعظم بننا مشکل ہے

ڈچ اور فلیمش زبانیں بولنے والے ان دونوں صوبوں کے مابین اقتدار کی کشمکش کی وجہ سے ہی رواں سال چار اپریل کو بیلجیم میں ملکی حکومت ختم ہو گئی تھی۔ این وی اے اور سوشل ڈیموکریٹس کے مابین نہ صرف مختلف نکات پر اختلافات تھے بلکہ ان کی پالیسیاں بھی ایک دوسرے سے جدا تھیں۔ بیلجیم میں ملکی الیکشن کمیشن کے مطابق 150رکنی نئی پارلیمان میں NVA کے پاس 27 نشستیں ہیں، جو2007 کے مقابلے میں آٹھ زیادہ ہیں۔ اسی طرح سوشل ڈیموکریٹس کی نشستوں کی تعداد 26 سے کم ہو کر20 رہ گئی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ دونوں سیاسی جماعتیں جلد ہی ایک مرتبہ پھر حکومت سازی کے لئے مذاکرات شروع کریں گی۔

بیلجیم یکم جولائی سے چھ ماہ کئے یورپی یونین کا صدر ملک ہو گا۔ اس وجہ سے حکومت سازی کے لئے مذاکرات نہ صرف جلد شروع ہونے چاہیئں بلکہ بہت جلد ہی فریقن کوکسی نہ کسی نتیجے پربھی پہنچنا ہوگا۔ ماہرین کے بقول اگر اس سیاسی بحران کے زیر سایہ ہی یورپی یونین کی صدارت بیلجیم کے پاس آتی ہے تو نگران حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک