1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بیلجیم دو جوہری ری ایکٹر عارضی طور پر بند کر دے، جرمنی

جرمن وزیر ماحولیات نے بیلجیم کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اُن دو جوہری ریکٹرز کو عارضی طور پر بند کر دے، جن کے خراب ہونے کے امکانات ہیں۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے جرمن وزیر ماحولیات باربرا ہینڈرکس کے حوالے سے بتایا ہے کہ برلن حکومت کو بیلجیم میں قائم ان دو ایٹمی پلانٹس پر تحفظات ہیں، جن میں حادثے کا شکار ہونے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ ہینڈرکس نے برسلز حکومت سے کہا ہے کہ جب تک ان ری ایکٹرز کی سکیورٹی سے متعلق تحفظات دور نہیں ہوتے، تب تک انہیں بند رکھا جائے۔

بیلجیم میں واقع ان پرانے ایٹمی ریکٹرز میں تیکنیکی خرابیوں کی وجہ سے ہمسایہ ملک جرمنی میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اس معاملے پر ان دونوں ممالک میں تناؤ کی کیفیت بھی دیکھی جا رہی ہے۔

جرمنی کی کوشش ہے کہ وہ توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دے، اسی لیے برلن حکومت ایک قانون سازی کے تحت ملک کے تمام کمرشل ایٹمی ری ایکٹر کو 2022 تک بند کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔

بیلجیم میں واقع Doel 3 اور Tihange 2 نامی دو جوہری پلانٹس کو سن 2012 میں اس وقت عارضی طور پر بند بھی کر دیا گیا تھا، جب معمول کی سروس چیکنگ میں اس میں کچھ تیکنیکی خرابیاں نوٹ کی گئی تھیں۔

بیلجیم کی وفاقی ایجنسی برائے جوہری کنٹرول نے بعد ازاں عالمی ماہرین سے مشاروت اور تجزیات کے بعد نومبر میں انہیں دوبارہ فعال بنانے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم جرمن وزیر ماحولیات کا اصرار ہے کہ ان ری ایکٹرز کی مزید چیکنگ کی ضرورت ہے۔

ہنڈرکس کے مطابق جرمنی کا آزاد ’ری ایکٹر سیفٹی کمیشن‘ RSK تصدیق نہیں کر سکا ہے کہ کسی ممکنہ حادثے کے نتیجے میں ان دونوں جوہری پلانٹس کو مناسب طریقے سے بند کیا جا سکتا ہے۔

Deutschland Barbara Hendricks Bundesumweltministerin PK zur Weltklimakonferenz in Paris

جرمن وزیر ماحولیات باربرا ہینڈرکس نے بیلجیم کے دو ایٹمی ری ایکٹرز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے

جرمن وزیر ماحولیات باربرا ہینڈرکس نے کہا، ’’اس لیے میرے خیال میں ہمیں ان ری ایکٹرز کے مکمل محفوظ ہونے کے بارے میں مزید ٹیسٹ کرانا چاہییں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ہے کہ اس طرح برلن کو احساس ہو سکے گا کہ برسلز حکومت اس کے تحفظات کو مناسب توجہ دے رہی ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں ہی جرمن اور بیلجین ماہرین نے ان دونوں پلانٹس کی سکیورٹی کے بارے میں مکمل اور جامع مذاکرات کیے تھے۔ دونوں ممالک کے ماہرین نے اتفاق کیا تھا کہ سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مزید ٹیسٹ کیے جانے کی ضرورت ہے۔