1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بیلاروس حکومت پر امریکہ و یورپی یونین کی تنقید

امریکہ اور یورپی یونین نے بیلاروس میں صدارتی امیدواروں اور حکومت مخالف مظاہرین کی گرفتاریوں کی مذمت کی ہے جبکہ روس نے اسے بیلاروس کا داخلی معاملہ قرار دیا ہے۔

default

اس مشرقی یورپی ملک میں اتوار کو ہوئے صدارتی انتخابات میں ایک بار پھر گزشتہ 16 برس سے برسراقتدار الیکزینڈر لوکا شینکو کی کامیابی کا اعلان کیا گیا ہے۔ پیر کو علی الصبح ہی دارالحکومت منسک میں صدر لوکا شینکو کے مخالف نو صدارتی امیدواروں سمیت سینکڑوں افراد کو حکومتی تحویل میں لیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین سرکاری عمارات میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ امریکہ نے صدر لوکا شینکو کے انتخاب کو مسترد کیا ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان فلپ کراؤلی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ان صدارتی انتخابات کے سلسلے میں یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم OSCE کے نکتہ ء نظر سے متفق ہے۔ اس تنظیم نے صدارتی انتخابات کے معائنے کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ بیلاروس کو آزاد و شفاف انتخابات کے وعدے کو عملی جامعہ پہنانے کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما کے ترجمان رابرٹ گبس نے بیلاروس کے انتخابات اور حالیہ گرفتاریوں پر ردعمل میں کہا، ’’ امریکہ بیلاروس حکومت کے اس قدم کی کڑی مذمت کرتا ہے، جس کے تحت جمہوری عمل کی نفی کی گئی اور سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا۔‘‘ گبس نے گرفتار شدہ افراد کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بیلاروس کے ساتھ تعلقات کا انحصار وہاں جمہوریت اور انسانی حقوق کے احترام سے ہے۔

Belarus Wahlen

صدر لوکا شینکو اپنے بیٹے کے ہمراہ ووٹ ڈالتے ہوئے

امریکہ کی طرز پر یورپی یونین نے بھی اس سابق سوویت ریاست میں ہوئے حالیہ صدارتی انتخابات کے نتائج کو مسترد کیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے گرفتار شدگان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بیلاروس کے طاقتور ترین پڑوسی روس نے اپوزیشن پر کریک ڈاؤن کی مذمت سے اجنتاب کیا ہے۔ روسی صدر دیمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ جو بیلاروس میں ہورہا ہے وہ وہاں کا اندرونی معاملہ ہے۔ صدر میدویدیف نے امید ظاہر کی کہ صدارتی انتخابات سے بیلاروس جدت کی جانب بڑھتے ہوئے پڑوسی ممالک سے جمہوری بنیادوں پر دوستانہ تعلقات قائم رکھے گا۔ روس کے برعکس سابق سوویت ریاست لیتھوینیا اور لیٹویا نے بیلاروس میں مخالفین کو دبانے کے لئے طاقت کے استعمال کی کھل کر مذمت کی ہے۔

بیلاروس کے الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹ ڈالنے کا تناسب 90 فیصد رہا جبکہ جیتنے والے امیدوار، صدر لوکا شینکو کے حق میں 80 فیصد رائے دہندگان نے ووٹ دئے۔ یورپی مبصرین کے مطابق ووٹ ڈالنے کا عمل مناسب رہا تاہم ووٹ گننے کے دوران انتظامات ناقص رہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM