1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بیس سال سے مفرور ’چھوٹا راجن‘ بھارتی تحویل میں

مبینہ بھارتی مجرم ’چھوٹا راجن‘ بیس سال کے مفروری کے بعد آج نئی دہلی پہنچا دیا گیا۔ اسے انڈونیشیا کی حکومت نے ملک بدر کرتے ہوئے نئی دہلی حکام کے حوالے کیا ہے۔

راجندر سداشیو نکلجی عرف ’چھوٹا راجن‘ کو بھارتی فضائیہ کے ایک جیٹ طیارے کے ذریعے نئی دہلی پہنچایا گیا، جہاں سے اسے فوراً ہی ملکی تفتیشی ادارے سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن ’سی بی آئی‘ کے مرکزی دفتر پہنچا دیا گیا۔ ممبئی پولیس کے ڈپٹی کمشنر کلکرنی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا، ’’اسے سی بی آئی کے حوالے کردیا گیا ہے۔‘‘ کلکرنی بھی ان افسران میں شامل تھے، جو اس مبینہ ’ڈان‘ کی واپسی کے وقت اس کے ساتھ جہاز میں سوار تھے۔

راجن پر قتل، بھتہ خوری اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے الزامات ہیں۔ پولیس اس سلسلے میں اسے مختلف ممالک میں تلاش کر رہی تھی اور 1995ء میں اسے انٹرپول کی جانب سے بھی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کر دیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق راجن بھارتی پولیس کو 80 سے زائد مقدمات میں مطلوب تھا۔

55 سالہ ’انڈر ورلڈ ڈان‘ راجن کو 26 اکتوبر کو انڈونیشیا کے سیاحتی مقام بالی میں گرفتار کیا گیا تھا، جہاں وہ آسٹریلوی شہر سڈنی سے پہنچا تھا۔ وہ آسٹریلیا میں اپنی شناخت تبدیل کر کے رہ رہا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ 1990ء کی دہائی میں ممبئی اس کی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ممبئی کی جرائم پیشہ دنیا کے بے تاج بادشاہ داؤد ابراہیم کے ساتھ بھی راجن کے قریبی مراسم تھے۔ ابراہیم پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ 1993ء میں ممبئی میں ہونے والے اس حملے کا ذمہ دار ہے، جس میں 257 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ ابراہیم کے مطابق اس نے یہ دہشت گردانہ کارروائی ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے قدیم بابری مسجد کے منہدم کیے جانے کے بدلے میں کی تھی۔ راجن پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اس بم حملے کے بعد اس نے داؤد ابراہیم سے اپنے تعلقات ختم کر دیے تھے۔

کلکرنی کے مطابق ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ راجن کو کب ممبئی منتقل کیا جائے گا۔ راجن خود کو ایک ’ہندو ڈان‘ کہتا ہے اور اس کے مطابق وہ صرف بھارت مخالف افراد کو ہدف بناتا ہے، جن میں داؤد ابراہیم کے گروہ کے افراد بھی شامل ہیں۔ راجن نے بالی میں اپنی گرفتاری کے بعد کہا تھا، ’’مجھ پر لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔‘‘