1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

بیس سال بعد پاکستان لارڈز کا شاہ کیسے بنا؟

لارڈز ٹیسٹ جیت کر پاکستانی کرکٹرز نے دو ہزار دس کا داغ بڑی حد تک دھو دیا ہے۔ چھ برس قبل کرکٹ کا ’مکہ‘ کہلانے والے لارڈز گراؤنڈ میں فکسنگ کی سبکی اٹھانے والی پاکستانی ٹیم نے اپنے کھیل سے اپنے پرائے سبھوں کے دل جیت لیے۔

چار دن تک کئی قلابازیاں کھانے والے اس شاندار مقابلے کا انجام شایان شان انداز میں محمد عامر کے ہاتھوں ہوا، جنہوں نے جیک بال کو کلین بولڈ کیا۔ یہ وہی عامر تھے، جو چھ سال پہلے اسی لارڈز سے ولن بن کر نکلے تھے۔

DW.COM

پاکستانی کپتان مصباح کے بقول یہ محمد عامر کی زندگی کا یادگار دن ہے۔ مصباح نے اس جیت کو انسانی خدمتگارعبدالستار ایدھی سے منسوب کیا۔

یہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی بیس سال بعد لارڈز پر پہلی کامیابی ہے۔ آخری بار انیس سو چھیانوے میں وسیم اکرم کی پاکستانی ٹیم نے انگلینڈ کو یہاں زیر کیا تھا۔

یاسر شاہکار اور انگلینڈ کی دکھتی رگ

کامیابی کی بنیاد کپتان مصباح الحق نے سنچری بنا کر رکھی تھی لیکن یاسر شاہ کی لیگ اسپن دونوں ٹیموں کے درمیان فرق ثابت ہوئی۔ انہوں نے میچ میں دس وکٹیں لے کر ’مین آف دی میچ‘ کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ کارنامہ جو عمران خان، وسیم، وقار، عبدلقادر، بشن سنگھ بیدی اور انیل کمبلے جیسے باؤلر بھی سرانجام نہ دے سکے، وہ یاسر شاہ نے انگریزوں کی سرزمین پر اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں کر دکھایا۔

یاسر نے جب کرس ووکس کی اننگز تمام کی تو وہ لارڈز کے تاریخی گراؤنڈ پر دس وکٹیں لینے والے پہلے ایشیائی باؤلر بن گئے۔ شاہ اپنے کیریر کے ابتدائی تیرہ ٹیسٹ میچوں میں چھیاسی وکٹیں لےچکے ہیں، جو ایک ریکارڈ ہے۔ وہ اسی سیریز میں تیز ترین سو وکٹوں کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کر سکتے ہیں۔

یہ ریکارڈ انگلینڈ کے جارج لومین نے دو صدیاں پہلے اٹھارہ سو چھیانوے میں اپنے سولہویں ٹیسٹ میں قائم کیا تھا۔ لیگ اسپن باؤلنگ انگلینڈ کی ہمیشہ سے دکھتی رگ رہی ہے، جس پر عبدالقادر، مشتاق اور شین وارن کے بعد اب یاسر شاہ نے ہاتھ رکھا ہے۔

میچ کے بعد یاسر نے اعتراف کیا کہ پہلی اننگز میں چھ وکٹیں لینے کے بعد توقعات بڑھنے سے وہ دباؤ میں تھے۔ لیکن ساتھی کھلاڑیوں نے انہیں اعتماد فراہم کیا جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ یاسر کے بقول زیادہ تجربات نہ کرنا اور ایک جگہ پر گیند کرنا انکی کامیابی کا باعث بنا۔

Sri Lanka Cricket Yasir Shah

اسی اعلیٰ پرفارمنس کے ساتھ ہی یاسر شاہ نے آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی پوزیشن بھی سنبھال لی ہے

اسی اعلیٰ پرفارمنس کے ساتھ ہی یاسر شاہ نے آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی پوزیشن بھی سنبھال لی ہے۔ قبل ازیں ٹیسٹ کے بہترین بولر کا اعزاز انگلش بولر جیمز اینڈریسن کے پاس تھا، جو کندھے کی چوٹ کی وجہ سے لارڈز ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے۔

کون کہتا ہے ٹیسٹ کرکٹ دلچسپ نہیں رہی

لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ہارجیت کا فرق پچھتر رنز رہا لیکن یہ ٹیسٹ پہلے دن سے دلچسپی اور اتار چڑھاؤ سے بھر پور رہا۔ پاکستان نے لارڈز پر ٹاس بھی بیس سال بعد جیتا اور مصباح نے سست اور سیدھی پچ پر بیٹنگ میں پہل کا اعلان کیا۔

میچ میں کئی ڈرامائی موڑ آئے۔ چوتھے دن جب گیری بیلنس اورجیمز ونس کھل کر کھیل رہےتھے تو لگتا تھا کہ انگلینڈ بازی پلٹ دے گا لیکن پھر کھانے کے وقفے کے بعد پہلے وہاب ریاض کی ریورس سوئنگ نے جیمز ونس کی اننگز کو ٹھکانے لگایا اور پھر یاسر شاہ نے آف سٹمپ کے بہت باہر گیند کراکے جب گیری بیلنس کی لیگ اسٹمپ کا ڈرامائی انداز میں صفایا کیا تو میچ مصباح کی مٹھی میں آچکا تھا۔ بعد ازاں جانی بییر سٹو اور کرس ووکس نے بھی پاکستان کی راہ میں روڑے اٹکائے لیکن پھر شاہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

اس سے پہلے دوسری اننگز میں پاکستان کے چار کھلاڑی صرف ساٹھ رنز پر آوٹ ہو گئے تھے۔ اس وقت انگلینڈ کا پلڑا بھاری تھا تاہم اسد شفیق اور سرفراز احمد نے ذمہ داری سے اپنی ٹیم کو دلدل سے نکال لیا۔ انگلینڈ کی پہلی اننگز میں کک اور روٹ کی پارٹنرشپ کے وقت بھی میزبان ٹیم کا ہی بول بالا تھا لیکن رروٹ کی یاسر کو چھکا لگانے کی ناکام کوشش اس مقابلے کا سب سے اہم موڑ ثابت ہوئی۔

لارڈز پر خلاف روایت اس اعصاب شکن مقابلے میں تماشائی بہت پرجوش دکھائی دیے۔ اس گراؤنڈ پر کرکٹرز کی پزیرائی انگریز پرسکون انداز میں کرتے ہیں لیکن مقامی اور پاکستانی تماشائی اس میچ میں اکثر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ہلہ گلہ کرتے رہے۔

تلوار جتنی بھی بوڑھی ہو جائے مانگتی تو خون ہی ہے

چند ہفتے قبل کپتان مصباح الحق کے بارے میں ایک پاکستانی اخبار نویس نے لکھا تھا کہ وہ اپنی عمر چھپانے کے لیے بالوں میں خضاب لگا کر انگلینڈ جا رہے ہیں۔ مصباح ہمیشہ ایسی باتوں کا جواب بلے سے دیتے آئے ہیں اس بار بھی انہوں نے یہ کام سیریز کے پہلے ہی دن کر دیا۔

مصباح الحق لارڈز پر سنچری بنانے والے حنیف محمد اور جاوید برکی کے بعد تیسرے پاکستانی کپتان بن گئے۔ سابق کپتان عمران خان جن کی قیادت میں پاکستان نے پہلی بار انیس سو بیاسی میں لارڈز پر ٹیسٹ جیتننے کا اعزاز حاصل کیا خود بھی یہ مہا مقابلہ دیکھنے کےلیے گراونڈ پر موجود تھے۔

مصباح کو بیالیس برس کی عمر میں سنچری بناتے اور ڈنڈ نکالتے دیکھ کرعمران کا کہنا تھا، مصباح کا ٹیم میں دیر سے آنا کسی المیے سے کم نہیں۔ اگر مصباح کا ٹیلنٹ جلدی اجاگر ہوجاتا تو تصور کیجیے پاکستان کرکٹ میں ان کا کردار کیا ہوتا۔‘‘

Lord's Cricket Ground Pavilion Stand London

یاسر لارڈز کے تاریخی گراؤنڈ پر دس وکٹیں لینے والے پہلے ایشیائی باؤلر بن گئے

خان کا کہا تو بجا ہے لیکن چھتیس سالہ کی عمر میں قیادت کا تاج سر سجانے کے بعد بھی مصباح سب سے زیادہ ٹیسٹ جیتنے والے پاکستانی کپتان بن چکے ہیں۔

اگلی منزل اولڈ ٹریفورڈ

دونوں ٹیموں کو اب مانچسٹر جانا ہے، جہاں دوسرا ٹیسٹ بائیس جولائی سے اولڈ ٹریفورڈ پر شروع ہو گا۔ اولڈ ٹریفوڑڈ کی پچ حالیہ برسوں میں اسپنرز کی جنت بن چکی ہے۔

انگلینڈ کی ٹیم میں بین اسٹوکس اور جیمز اینڈرسن کی واپسی کے ساتھ ساتھ بارش بھی متوقع ہے۔ پاکستان کے لیے اوپننگ کا شعبہ بڑا درد سر ہے۔ شان مسعود نے دبئی اور ابوظبی کی طرح لارڈز پر بھی اپنی آف سٹمپ کے باہر کیچ دینے کی عادت نہیں چھوڑی لیکن شاید انہیں یہ غلطی سدھارنے کا ایک موقع اور مل جائے۔