1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بیسویں صدی کے معروف سائنس فکشن ادیب کا انتقال

سائنس فکشن کی دنیا کے زرخیز اور بااثر ترین مصنفین میں سے ایک برائن الڈِس بیانوے برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ ادبی ادارے کرٹس براؤن کے مطابق الڈس کا انتقال ہفتے کی صبح آکسفورڈ میں واقع اپنے گھر میں ہوا۔

Brian Aldiss (Imago)

الڈس کو امریکا کے سائنس فکشن مصنفین کی جانب سے ’گرینڈ ماسٹر‘ کا خطاب دیا گیا تھا

سن انیس سو پچیس میں پیدا ہونے والے برائن الڈس نے دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں برطانوی فوج میں ملازمت کے دوران برما اور انڈیا میں خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں وہ مصنف بن گئے اور اپنی اولین کہانیاں ایک تجارتی میگزین میں شائع کیں۔

الڈس نے جلد ہی سائنس فکشن کے میدان میں بطور کہانی کار اور ناول نگار اپنا لوہا منوا لیا۔ اُنہوں نے بہت سے ادبی مجموعوں کی ادارت بھی کی۔ الڈس کی معروف کتابوں میں ’گرے بیئرڈ‘ اور ’ہیلیکونیا‘ شامل ہیں۔

'گرے بیئرڈ‘ میں دنیا کو نوجوان افراد کے بغیر پیش کیا گیا ہے جبکہ ہیلیکونیا ایک ٹرائی لوجی یا تین ایسے ناولوں پر مشتمل ایک مجموعہ ہے جس میں ایک سیارے پر موسم صدیوں تک باقی رہتے ہیں۔ الڈس کی سن انیس سو انہتر میں لکھی مختصر کہانی،’’ سپر ٹوائز لاسٹ آل سمر لونگ‘‘ سن دو ہزار ایک میں سٹیون شپیل برگ کی فلم ’آرٹیفشل انٹیلیجنس‘ کی بنیاد بنی۔

برائن الڈس نے عام افسانے بھی تحریر کیے۔ عمومی فکشن میں اُن کے کام کا کچھ حصہ جنگ کے زمانے کے اُن کے تجربات اور آپ بیتی کی دو جلدو‌ں پر مشتمل ہے۔

الڈس کے بیٹے ٹم الڈس نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اُن کے والد بیسویں صدی کے عظیم ناول نگار اور نقاد کنگ زلے آمس کے مے نوشی کے ساتھیوں میں سے تھے اور نئے لکھنے والے اُنہیں متاثر کُن اور حوصلہ افزائی کرنے والا معلم سمجھتے تھے۔

جبکہ برطانیہ کہ ملکہ الزبتھ دوئم نے اس معروف ادیب کو ’این آفیسر آف دی آرڈر‘ کے لقب سے نوازا تھا۔ 

DW.COM