1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بیرون ملک تعینات درجنوں ترک سفارت کار روپوش

ترکی میں گزشتہ ماہ فوجی بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد سے بیرون ملک تعینات جن دو سو سے زائد ترک سفارت کاروں کو واپس وطن لوٹنے کا حکم دیا گیا تھا، ان میں سے درجنوں ترک سفارتی نمائندے تاحال لاپتہ ہیں۔

Türkei Istanbul Panzer rollt über Autos

جولائی کے وسط میں ناکام فوجی بغاوت میں قریب تین سو افراد مارے گئے تھے

ترک دارالحکومت انقرہ سے جمعہ بارہ اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ بات ترک وزیر خارجہ مؤلود چاوش اولو نے کہی۔ چاوش اولو نے صحافیوں کو بتایا کہ جولائی کے وسط میں ترک مسلح افواج کے ایک دھڑے نے صدر رجب طیب ایردوآن اور ملکی حکومت کا تختہ الٹنے کی جو خونریز کوشش کی تھی، اس کے بعد مختلف ملکوں میں کام کرنے والے ترک سفارت خانوں میں تعینات دو سو سے زائد اہلکاروں کو ترک وزارت خارجہ نے واپس بلا لیا تھا۔

چاوش اولو نے کہا، ’’وزارت خارجہ نے 208 سفارت کاروں کو واپس ترکی لوٹنے کا حکم دیا تھا۔ ان میں سے سفارتی اہلکاروں کی ایک بڑی اکثریت ایسا کر چکی ہے۔ تاہم 32 ترک سفارت کار ایسے بھی ہیں، جو ابھی تک لاپتہ ہیں۔‘‘

مؤلود چاوش اولو نے یہ بات انقرہ میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ترکی کے دورے پر گئے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ پریس کانفرنس میں چاوش اولو نے لاپتہ ترک سفارت کاروں کے بارے میں اپنا یہ بیان ایک سوال کے جواب میں دیا۔

چاوش اولو نے کہا، ’’208 میں سے 32 ترک سفارت کار ابھی تک نہ تو وطن لوٹے ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی پتہ ہے۔ تاہم ہمیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ واپس بلا لیے گئے یہ ترک سفارت کار ان ریاستوں سے، جہاں وہ تعینات تھے، فرار ہو کر کئی دوسرے ملکوں میں روپوش ہو چکے ہیں۔‘‘

USA Türkei Islam Fethullah Gülen

فتح اللہ گولن

گولن کی امریکا سے ملک بدری

مؤلود چاوش اولو نے اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ انقرہ حکومت نے امریکا میں مقیم ترک مسلم مبلغ فتح اللہ گولن کی ملک بدری اور انہیں ترکی کے حوالے کیے جانے سے متعلق واشنگٹن حکومت سے جو درخواست کر رکھی ہے، اس کے جواب میں انقرہ کو امریکا سے اب کچھ مثبت اشارے مل رہے ہیں۔

اسی دوران فتح اللہ گولن کی طرف سے بھی یہ موقف سامنے آیا ہے کہ وہ امریکا سے اپنی ترکی واپسی پر صرف اسی صورت میں آمادہ ہوں گے، جب کوئی غیر جانبدار ترک فیصلہ ساز ادارہ انہیں ان الزامات میں قصور وار قرار دے دے گا، جو ان پر انقرہ حکومت کی طرف سے لگائے جاتے ہیں۔

Türkei Luftwaffe Kampfflugzeug F-16

ترک فضائیہ کو ایئر فورس کے افسروں کی برطرفیوں اور گرفتاریوں کے بعد پائلٹوں کی کمی کا سامنا ہے

ترک فضائیہ کو پائلٹوں کی کمی کا سامنا

استنبول سے ملنے والی رپورٹوں میں ترک وزیر دفاع فکری ایسیک کے ایک ترک ٹیلی وژن کے ساتھ انٹرویو میں آج جمعہ بارہ اگست کو دیے گئے اس بیان کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق پندرہ جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترک فوج کے ساتھ ساتھ فضائیہ سے بھی جن بے شمار افسروں کو برطرف کیا گیا یا جنہیں گرفتار کیا جا چکا ہے، ان کی عدم موجودگی میں ملکی ایئر فورس کو اب پائلٹوں کی واضح کمی کا سامنا ہے۔

وزیر دفاع کے مطابق ترک حکومت جلد ہی ایک ایسا آرڈیننس جاری کرے گی، جس کی مدد سے ملکی فضائیہ میں پائلٹوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے نئی بھرتیاں ممکن ہو سکیں گی۔

وزیر دفاع فکری ایسیک کے مطاق ترکی کو اپنی ایئر فورس میں پائلٹوں کی اتنی شدید کمی کا سامنا بہرحال نہیں ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف جنگ اور فضائی حملوں سے متعلق اپنی ذمے داریاں پوری نہ کر سکے۔