1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بیرونی ملکوں کے لیے چینی امداد بے لوث ہے، بیجنگ

چینی دارالحکومت میں ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے منگل کو کہا کہ بیرونی دُنیا کے لیے چین کے امدادی پروگرام بے لوث ہیں اور یہ الزامات درست نہیں ہیں کہ ان پروگراموں کا اصل مقصد خام مادوں تک رسائی ہے۔

چینی وزیر اعظم تنزانیہ میں

چینی وزیر اعظم تنزانیہ میں

بیجنگ حکومت کے بیرونی ممالک کے لیے امدادی پروگراموں کے نگران اور نائب وزیر تجارت فُو زی ژِنگ نے کہا کہ ان پروگراموں کا مقصد ان ممالک کی مدد کرنا ہے، جو کبھی سنگدل مغربی ممالک کی نوآبادیات تھے اور جنہیں اب اُن کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

فُو زی ژِنگ کا کہنا ہے کہ چین تو الٹا زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے، خاص طور پر اُن ملکوں میں، جو کبھی مغربی طاقتوں کی نوآبادیات تھے۔ بیجنگ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا:’’بہت سے ترقی پذیر ملکوں میں ہسپتالوں، اسکولوں، ثقافتی مراکز، پُلوں اور سڑکوں کی قلت ہے۔ ہماری امداد اُن شعبوں کے لیے ہے، جہاں اُنہیں اِس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘‘

چینی کارکن ایتھوپیا میں

چینی کارکن ایتھوپیا میں

گزشتہ چھ عشروں کے دوران چین نے بیرونی امداد کی مَد میں مجموعی طور پر 256.29 ارب ین (39.26 ارب ڈالر) فراہم کیے ہیں۔ اِس امداد کا نصف حصہ افریقی ممالک کو دیا گیا۔ بیجنگ حکومت کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار میں تفصیل سے یہ تو نہیں بتایا گیا کہ کن ممالک کو یا کس سال کتنی امداد دی گئی البتہ یہ کہا گیا ہے کہ 2004ء سے اِس امداد میں کافی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

موازنے کے طور پر دیکھا جائے تو 2001ء سے امریکی کانگریس نے صرف پاکستان کے لیے براہِ راست اور فوجی امداد کی مَد میں 20 ارب ڈالر فراہم کیے ہیں۔

میانمار اور زمبابوے جیسے اُن ملکوں میں چین کے امدادی پروگرام اِس وجہ سے توجہ کا مرکز بنے ہیں کہ ان ممالک کے خلاف مغربی دُنیا نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ گویا چین نے ایسی حکومتوں کی تائید و حمایت کی ہے، جن کا انسانی حقوق کی پاسداری یا شفاف کاروبارِ حکومت کے حوالے سے ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔

تاہم چین کے نائب وزیر تجارت فُو زی ژِنگ کے مطابق چین نے ایک ایسے وقت میں بر اعظم افریقہ کے نو آزاد ممالک کی بے غرض اور بے لوث مدد کی، جب اُسے خود اپنی ترقی کے حوالے سے مسائل درپیش تھے۔

افریقہ میں بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ان چینی منصوبوں کا مقامی آبادی کو فائدہ نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ چینی افرادی قوت بھی چین سے ساتھ لاتے ہیں۔ معدنی تیل کی دولت سے مالا مال ممالک سوڈان اور انگولا کے ساتھ بھی چینی حکومت کے قریبی تعلقات تنقید کی زَد میں آئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ چین محض اپنی معیشت کے لیے توانائی اور خام مادوں تک رسائی کے لیے اِن ملکوں کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہوئے ہے۔

جواب میں چینی نائب وزیر تجارت نے کہا کہ چین کے تو مالی جیسے ممالک کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں، جن کے پاس زیادہ قدرتی وسائل نہیں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ چین کے لیے افریقی تیل کی برآمدات تیس فیصد سے بھی کم ہوں گی۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس