1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’بیرونی مداخلت افغانستان کے بہتر مستقبل کی راہ میں رکاوٹ‘

افغانستان کے دورے پر موجود بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے واضح کیا ہے کہ یہاں کے معاملات میں بیرونی مداخلت افغان عوام کے بہتر مستقبل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

default

ایس ایم کرشنا نے کابل میں اپنے افغان ہم منصب زلمی رسول کے ساتھ تفصیلی ملاقات کے بعد ان خیالات کا اظہار کیا۔ جنوبی ایشیا کے روایتی حریف پاکستان اور بھارت دونوں ہی افغانستان میں اثر و رسوخ کی رسہ کشی میں مصروف عمل بتائے جاتے ہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ افغانستان کی تعمیر نو میں مصروف بھارتیوں کو ’حقیقی‘ خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ان کا ملک ان خطرات سے گھبرانے والا نہیں۔ بھارتی وزیر نے امید ظاہر کی کہ کابل حکومت اس ضمن میں بھارتیوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔

Burhanuddin Rabani Vorsitzende Friedensrat Afghanistan

امن کونسل کے سربراہ سابق صدر برہان الدین ربانی نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا تھا

یاد رہے کہ کابل میں بھارتی شہریوں کو دو بار دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ پہلی بار 2008ء میں بھارتی سفارتخانے پر ایک خودکش حملے میں 41 انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں، جبکہ گزشتہ سال کابل کے ایک ہوٹل پر خودکش حملے کا نشانہ بننے والے 16 افراد میں سے سات بھارتی شہری تھے۔ ایس ایم کرشنا نے صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ،’’میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم اس وقت تک افغانستان میں رہیں گے جب تک افغانستان کی منتخب حکومت چاہے۔‘‘

کرشنا کا یہ دورہ اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے لئے افغان امن کونسل نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ نئی دہلی حکومت کی خواہش ہے کہ سخت نظریات کے حامل اور پاکستان کے حامی سمجھے جانے والے طالبان کو اقتدار سے دور رکھا جائے۔ اس کے برعکس امن کونسل کے ارکان نے تازہ بیانات میں اُن طالبان کو سماجی دھارے میں شامل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے جو مسلح بغاوت ترک کردیں گے۔

ڈوئچے ویلے کے ساتھ خصوصی گفتگو میں امن کونسل کے نمائندے قیام الدین کشاف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی سول اور فوجی قیادت نے انہیں افغانستان میں جاری شورش میں خاتمے کے لئے تعاون کا یقین دلایا ہے۔ کابل میں پریس کانفرنس کے دوران ایس ایم کرشنا نے کہا کہ ان کا ملک طالبان کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں کا حامی ہے مگر اس عمل میں بیرونی مداخلت افغانستان میں خوشحالی، جمہوریت اور استحکام کے لئے تباہ کن ہے۔

Tote bei Anschlag vor indischer Botschaft in Kabul

7 جولائی 2008ء کو کابل کے بھارتی سفارتخانے پر خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے حملہ آور کی نعش کو پولیس حکام لے جارہے ہیں

افغان حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں بھارتی وزیر نے مبینہ طور پر سرحد پار دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے مسئلے پر بھی غور کیا۔ واضح رہے کہ مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ کابل اور نئی دہلی حکومتیں بھی اس ضمن میں اسلام آباد پر الزام تراشی کرتی ہیں۔

جنگ زدہ افغانستان میں تعمیر نو اور بحالی کے مختلف منصوبوں کے لئے خطے کے تمام ممالک کے مقابلے میں بھارت کی امداد زیادہ ہے۔ ایس ایم کرشنا نے خشک سالی کے شکار علاقوں کے لئے ایک ہزار ٹن گندم کی امداد فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM