1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بیرونی مالی امداد کی ضرورت نہیں، پرتگالی وزیر اعظم

پرتگال کے وزیراعظم Jose Socrates نے کہا ہے کہ ان کی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لئے کافی وسائل رکھتی ہے اور اس حوالے سے انہیں فی الحال کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔

default

وزیراعظم کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب پرتگال کی پارلیمان نے اگلے مالی سال کے بجٹ میں سخت ترین اصلاحات کی منظوری دی ہے۔ اس سے قبل پرتگالی حکام نے ان میڈیا رپورٹس کی بھی تردید کی تھی، جن میں کہا جا رہا تھا کہ یورو زون میں شامل دیگر ممالک پرتگال پر بیرونی مدد کی وصولی کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

پرتگال کے وزیراعظم Jose Socrates نے دارالحکومت لزبن میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا : ’’پرتگال کے پاس تمام ایسے وسائل موجود ہیں کہ وہ اپنی مالی ضروریات پوری کر سکے۔ مجھے یقین ہے حکومتی بجٹ مالیاتی منڈیوں میں استحکام لائے گا۔‘‘

جمعہ کو پرتگالی پارلیمان نے سن 2011ء کے بجٹ میں سخت ترین مالیاتی اصلاحات کی حتمی منظوری دی۔ اس پارلیمانی منظوری کے ذریعے عوامی شعبے میں خسارے کو 7 اعشاریہ تین سے کم کر کے چار اعشاریہ چھ تک لایا جائے گا۔ یورپی یونین کے معاشی شعبے کے کمشنر Olli Rehn نے پرتگال کی پارلیمان کے اس فیصلے کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملات کی نذاکت کے لحاظ سے پرتگال کی حکمت عملی نہایت واضح اور قابل قدر ہے۔

Brüssel EU Olli Rehn

Olli Rehn

دوسری جانب پرتگالی مالی منڈیوں پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی کمی کے باعث تمام یورو زون پر اس کے اثرات دیکھےجا رہے ہیں۔ پرتگال کے وزیرخزانہ Teixeira dos Santos نے اپنے ایک تازہ بیان میں تسلیم کیا کہ ملکی معیشت پر دباؤ کی وجہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی ہے اور یہ پورے یورو زون کا مسئلہ ہے۔ ’’اس معاملے میں صرف متاثرہ ممالک نہیں بلکہ پورے یورو زون کو مل کر کام کرنا چاہئے۔‘‘

اس سے قبل وزیراعظم Jose Socrates نے اپنے ایک بیان کہا کہ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے پورے ملک کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔ ’’پرتگال کے اگلے بجٹ میں مشکل اور ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔ تاہم ملک کو فوری طور پر اس بڑے مالیاتی بحران سے باہر نکالنے کا کوئی اور متبادل راستہ نہیں ہے۔‘‘

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس