بیروت میں امریکی سفارت خانے کے باہر پرتشدد مظاہرے | حالات حاضرہ | DW | 10.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بیروت میں امریکی سفارت خانے کے باہر پرتشدد مظاہرے

لبنان میں امریکی سفارت خانے کے باہر یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف جاری مظاہرہ پر تشدد صورت حال اختیار کر گیا۔ اس فیصلے کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں امریکی سفارت خانے کے باہر لبنانی اور وہاں مقیم فلسطینیوں نے یہ احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر بیروت حکومت کی جانب سے سکیورٹی کا سخت بندوبست کیا گیا تھا۔

یروشلم میں نئے سکیورٹی اقدامات اور آٹھ فلسطینیوں کی ہلاکت

اردن کی پارلیمان کا اسرائیل پر ’ریاستی دہشت گردی‘ کا الزام

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم سے متعلق اعلان کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ان مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا۔

ویڈیو دیکھیے 00:44
Now live
00:44 منٹ

ٹرمپ کے اعلان کے خلاف مسلم اکثریتی ممالک میں مظاہرے

متعدد نیوز ایجنسیوں کی جانب سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بیروت میں جمع یہ ہزاروں مظاہرین امریکی سفارت خانے سے صرف چند سو میٹر دور ہیں۔ ان افراد نے فلسطینی پرچم اور امریکی صدر ٹرمپ کے خلاف پلے کارڈ اٹھا رکھے ہیں۔ سکیورٹی اداروں کے مطابق سفارت خانے کے انتہائی قریب ہونے کے باوجود یہ مظاہرین سفارت خانے کے عملے اور عمارت کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔

بیروت حکومت نے سفارت خانے کی جانب جانے والی شاہراہوں اور راستوں کو بیریئر نصب کر کے بند کر رکھا ہے۔ سفارت خانے کے اطراف میں واقع سڑکوں پر جمع مظاہرین کو سڑکوں پر ٹائر اور دیگر اشیا نذر آتش کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

لبنان میں نصف ملین سے زائد فلسطینی مہاجرین پناہ لیے ہوئے ہیں جو کہ مجموعی آبادی کا دس فیصد بنتے ہیں۔

فلسطین بھر میں بھی مظاہرے

دوسری جانب غزہ پٹی اور مغربی کنارے کے فلسطینی علاقوں میں بھی احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک اسرائیلی پولیس اور فوج کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم چار فلسطینیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔

علاوہ ازیں اسرائیلی فورسز نے غزہ پٹی میں متعدد مقامات پر بمباری کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس کے ٹھکانوں اور سرنگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

حماس کے سربراہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے متنازعہ فیصلے کے بعد فسلطینیوں سے تیسرا ’انتفادہ‘ شروع کرنے کی اپیل اور اعلان کر رکھا ہے۔

ٹرمپ اپنا فیصلہ منسوخ کریں، عرب وزرائے خارجہ

امریکی فیصلہ: ایک سو برس بعد فلسطینیوں پر ایک اور کاری وار

ویڈیو دیکھیے 02:56
Now live
02:56 منٹ

یروشلم کے معاملے پر یورپی رد عمل

DW.COM

Audios and videos on the topic