1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بیرلسکونی کے اقتدار کا سورج غروب ہوتا ہوا

یورپی قرضوں کے بحران نے یونان میں پاپاندریو حکومت کو ہڑپ کر لیا اور اب اطالوی وزیر اعظم بیرلسکونی بھی اپنے سیاسی کیریئرکے اختتام کے قریب ہیں۔ ان کے بچتی پلان کو متوقع طور پر آج ایوان زیریں سے منظوری مل جائے گی۔

default

سلویو بیرلسکونی

یونان کے بعد اب اٹلی میں بھی ٹیکنوکریٹ وزیر اعظم حکومت قائم کرنے والے ہیں۔ اٹلی کے موجودہ وزیر اعظم سلویو بیرلسکونی نے پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے کہ وہ اپنے بچتی پلان کی منظوری کے بعد وزارت عظمیٰ کو خیر باد کہہ دیں گے۔ ان کی جانب سے پیش کردہ سادگی و کفایت شعاری کی پالیسی کا نیا بل اطالوی سینیٹ نے جمعہ کے روز منظور کر لیا تھا۔

 آج ہفتہ کے روز ایوان زیریں نے اس کی منظوری دینی ہے۔ ایوان زیریں سے منظوری کے بعد یہ بل صدر کے پاس رسمی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔ ایوان زیریں میں ووٹنگ کے بعد وزیر اعظم بیرلسکونی نے اپنی کابینہ کی میٹنگ طلب کر رکھی ہے۔ امکاناً وہ اس اجلاس میں اپنے مستعفی ہونے کے فیصلے سے وزراء کو پہلے مطلع کریں گے اور اس کے بعد باقاعدہ اعلان کر سکتے ہیں۔

Mario Monti

ماریو مونٹی عالمی شہرت کے اکانومسٹ ہیں

یونان میں ماہر اقتصادیات لوکاس پاپادیموس نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھال لیا ہے۔ اٹلی میں میلان شہر کی معتبر بوکونی یونیورسٹی  کے صدر ماریو مونٹی کا اگلا وزیر اعظم بننا یقینی دکھائی دیتا ہے۔ کل جمعے کے روز اطالوی سینیٹ میں ان کو تا حیات رکن سینیٹ بنایا گیا۔ ان کی نامزدگی اطالوی صدر نے نو نومبر کے روز کی تھی۔ مونٹی جب سینیٹ میں داخل ہوئے تو اس موقع پر ایوان دیر تک تالیوں سے گونجتا رہا۔

بیرلسکونی کی جانب سے کفایت شعاری کے بل میں لیبر قوانین کی مناسبت سے کچھ بھی شامل نہیں ہے۔ ریٹائرمنٹ کی عمر67 سال کرنے کے علاوہ کچھ سروسز کی نجکاری جیسی تجاویز شامل ہے۔ ماہرین کے خیال میں اطالوی اقتصادیات کو ابھی بہت بڑے بچتی پلان کی ضرورت ہے۔

مالیاتی مبصرین کا خیال ہے کہ اٹلی کے قرضوں کے حجم کے تناظر میں ابھی مزید بچتی پالیسیوں کا متعارف کروانا ضروری ہے وگرنہ اس کی اقتصادیات بھی یونان کی طرح تنکا تنکا ہو سکتی ہیں۔ مبصرین کے خیال میں اطالوی معیشت کا انتہائی شکستہ ہونا اصل میں سترہ رکنی یورو زون کی زنجیر کے ٹوٹنے کے مترادف ہو گا۔ اس باعث عالمی کساد بازاری اقوام کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ سردست اٹلی کی معیشت بحران کی شکار ہے۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM