1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بیرلسکونی : تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ منگل کو

اطالوی وزیر اعظم کو وزارت عظمیٰ کے موجودہ دور میں سخت ترین امتحان کا سامنا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ اپنے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد سے پریشان ہیں۔ اطالوی پارلیمنٹ میں ووٹنگ کل ہو گی۔

default

سلویو بیرلسکونی: فائل فوٹو

مبصرین کا خیال ہے کہ یورپی ملک اٹلی کو مالی مشکلات کے ساتھ ساتھ اب سیاسی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیر اعظم بیرلسکونی بظاہر مشکلات میں دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ایوان بالا سینٹ اور ایوان زیریں میں ووٹنگ منگل کو ہو گی۔ اس ووٹنگ سے قبل اطالوی وزیر اعظم نے پیر کو سینٹ سے خطاب کیا۔

Silent Disco Flash-Galerie

بیرلسکونی کو کئی اسکینڈلز بھی کا سامنا ہے

اطالوی وزیر اعظم سلویو بیرلسکونی نے اراکین پارلیمنٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ برلسکونی نے یہ اپیل اٹلی کے ایوان بالا سے خطاب کے دوران کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کے اراکین کے اس حکومت مخالف جذبے کا اداراک نہیں کر پار رہے جس کے دباؤ میں آ کرانہوں نے تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی۔ برلسکونی کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ تحریک کامیاب ہوگئی تو یہ اٹلی کے سیاسی منظر پر ایک بڑی غلطی ہو گی۔ انہوں نے اراکین پارلیمنٹ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مفادات کے چکر میں آ کر حکومت کو خطرے میں نہ ڈالیں۔

تحریک کی حمایت سینٹر رائٹ اراکین کا باغی ٹولہ کر رہا ہے۔ اس گروپ کی قیادت بیرلسکونی کے سابق ساتھی اور موجودہ مخالف گیافرانکو فینی (Gianfranco Fini)کر رہے ہیں۔ فینی کھلے عام کہتے ہیں کہ بیرلسکونی اطالوی عوام اور حکومت کے لئے مشکلات کا باعث ہیں اور اس کی وجہ ان

Gianfranco Fini und Silvio Berlusconi

فینی اور بیرلسکونی: کل دوست آج کے مخالف

کے سکینڈلز اور ناکام حکومتی پالیسیاں ہیں۔ مالی پالیسیوں کے حوالے سے وزیر اعظم بیرلسکونی کا خیال ہے کہ مالی مسائل کے باوجود اٹلی یورپی یونین کے اندر اقتصادی مشکلات کا حامل ملک ہرگز نہیں ہے۔

فینی ایوان زیریں کے سپیکر ہیں۔ ایوان زیریں ‘‘چیمبر آف ڈیپٹیز’’ کے سپیکر نے حال ہی میں ایک نئی سیاسی پارٹی ‘‘فیوچر اینڈ فریڈم فار اٹلی’’ کو قائم کیا ہے۔ اس میں بیرلسکونی کی جماعت کے کئی اراکین شامل ہو چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسی باعث ان کی ایوان زیریں میں اکثریت ختم ہو چکی ہے۔ اس مناسبت سے بیرلسکونی کے کل کے دوست اور آج کے کھلے مخالف فینی کا دعویٰ ہے کہ وہ برلسکونی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں سرخرو ہوں گے۔

بیرلسکونی نے اپنی حکومت کو بچانے کے لئے سینٹر رائٹ اراکین کو ایک دستوری معاہدے کی پیش کش بھی کی ہے۔ اس عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ منگل کو شیڈیول ہے اور اس میں دونوں ایوان شامل ہوں گے۔ اگر یہ قرارداد منظور ہو جاتی ہے تو بیرلسکونی کو یقینی طور پر اپنے منصب سے مستعفی ہونا پڑے گا اور قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس