1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بیجنگ کے دو اخبارات پر پراپیگنڈا وزارت کا کنٹرول

چین میں ایک طرف حکومت انٹرنیٹ پر مزید پابندیاں لگانے کے عمل میں مصروف ہے تو اس کے ساتھ ساتھ اندرون ملک ان اخبارات کو بھی نگرانی میں رکھا گیا ہے، جن میں آزادیء رائے کا تھوڑا بہت مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

default

چین کی وزارت پراپیگنڈا نے دارالحکومت بیجنگ کے دو اہم اور مقبول اخبارات کا کنٹرول سنبھال کر ان کی انتظامیہ کو تبدیل کر دیا ہے۔ نئی انتظامیہ، پراپیگنڈا کی وزارت کی جانب سے متعین کی گئی ہے۔ اس تبدیلی کا اعلان حکومتی سرپرستی میں قائم ویب سائٹ چیان لونگ پر جاری کیا گیا۔ اعلان میں بتایا گیا کہ بیجنگ کے اخبارات بیجنگ ٹائمز اور بیجنگ نیوز شامل ہیں۔

حکومت کے مختلف ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اس لیے کی گئی ہے کہ ان اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کو سنسر کیا جا سکے۔ ان دونوں اخبارات میں تواتر سے چین کے اندر قائم مقامی حکومتوں پر تنقیدی خبریں اور مضامین شائع کیے جا رہے تھے۔ بیجنگ ٹائمز اور بیجنگ نیوز کا ادارتی بورڈ کمیونسٹ پارٹی کے پراپیگنڈا بیورو کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات سے بھی انحراف کرتا تھا۔ پراپیگنڈا دفتر سے خاص طور پر چینی معاشرے کی اندرونی حالات کے بارے میں میڈیا کو احکامات جاری ہوتے ہیں کہ مثبت پہلوؤں کا احوال زیادہ شدت کے ساتھ بیان کیا جائے۔ جن اخبارات کی انتظامیہ کو تبدیل کیا گیا ہے وہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھانے سے گریز نہیں کرتی تھی۔

Internet Cafe in China Internet Zensur Amnesty International fordert amerikanische Firmen auf freiheitliche Rechte in China einzufordern

چین میں انٹر نیٹ پر بھی کئی طرح کی پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں

بیجنگ ٹائمز اور بیجنگ نیوز کا قیام ایک دہائی قبل عمل میں لایا گیا تھا اور ان میں رنگین صفحات کے علاوہ اشتہارات کی بھی بھرمار ہوتی تھی اور وہ  خاص و عام میں مسلسل مقبولیت حاصل کر رہے تھے۔ ویب سائٹ پر جاری ہونے والے اعلان میں بتایا گیا کہ حکام کو نئی تبدیلی کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ وہ ان اخبارات کے درمیان جاری اشتہاری جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے اشارے بھی دیے گئے ہیں کہ دونوں اخبارات کا ادغام بھی ممکن ہے۔

بیجنگ نیوز کی سابقہ انتظامیہ گوانگ مِنگ روزنامہ گروپ اور سدرن ڈیلی گروپ کے مشترکہ کنٹرول میں تھی۔ سدرن ڈیلی گروپ کو شائع کرنے والا ادارہ چین میں سب سے بڑا حکومتی ناقد خیال کیا جاتا ہے۔ بیجنگ ٹائمز کا اشاعتی مالک پیپلز ڈیلی گروپ ہے۔ پیپلز ڈیلی اخبار کمیونسٹ پارٹی کا ایک طرح سے ترجمان خیال کیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں کہا جا رہا ہے کہ بیجنگ ٹائمز کی ملکیتی ادارہ بیجنگ نیوز کی مقبولیت سے خائف تھا اور اس کارروائی میں اس کا ملکیتی ادارہ شامل ہو سکتا ہے۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس