1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بیجنگ کا آلودہ ماحول اور مارک سوکر برگ کی جوگنگ

فیس بک کے بانی مارک سوکر برگ نے چین کے دارلحکومت بیجنگ کے تیاننمن اسکوائر میں شدید فضائی آلودگی کے باوجود چہرے پر ماسک لگائے بغیر جاگنگ کی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے بانی مارک سوکر برگ بیجنگ میں منعقد ہونے والے اقتصادی فورم سے قبل چین پہنچ چکے ہیں۔ مارک سوکر برگ نے فیس بک پر اپنی تصویر شائع کی اور لکھا،’’ مجھے ایک مرتبہ پھر چین آنے پر خوشی ہے، میں نے ’تیاننمن اسکوائر سے ’ٹیمپل آف ہیون‘ تک جاگنگ بھی کی۔

چینی دارالحکومت بیجنگ ماحولیاتی آلودگی کا شکار شہر قرار دیا جاتا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق شدید فضائی آلودگی کے باوجود نہ ہی سوکر برگ اور نہ ہی ان کی ٹیم کے کسی فرد نے جاگنگ کرتے ہوئے ماسک کا استعمال کیا۔ چین میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے فضائی آلودگی کے تناظر میں امریکی شرکاء کو زیادہ دیر باہر گھومنے پھرنے سے متنبہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا کہ فضا میں نہایت چھوٹے اور خطرناک ذرات کی مقدارفی کیوبک میٹر 300 مائیکروگرام ہے۔ یہ مقدار عالمی ادارہ صحت کی جانب سے صاف فضا میں مقدار سے 12 گنا زیادہ تھی۔

مارک سوکر برگ کی بغیر ماسک کی تصویر کو انٹرنیٹ کے کچھ چینی صارفین نے پسند نہیں کیا۔ سوشل میڈیا کے ایک چینی صارف نے لکھا، ’’ مارک سوکر برگ دنیا کے سب سے مہنگے ویکیوم کلینر ہیں۔‘‘ جبکہ آسٹریلیا میں مقیم ایک چینی خاتون نے ٹوئٹ کی،’’ مقامی قوانین کی پابندی کرنا بہتر ہوتا ہے۔‘‘

چین میں گزشتہ کئی برسوں سے فیس بک پر پابندی عائد ہے، تاہم فیس بک ادارہ ایک ایسے وقت میں چین میں اپنی سروس کی بحالی کے لیے کوششں کر رہی ہے جب چین میں صدر شی جن پنگ کی حکومت انٹرنیٹ پر کنٹرول کو مزید سخت کرنے کی پلاننگ کیے ہوئے ہے۔

سوکر برگ کو نہ صرف چین بلکہ بیرون ملک بھی چین کی قیادت کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سن 2014 میں مارک سوکر برگ نے سیلی کون ویلی میں چین کے سب سے بڑے انٹرنیٹ ریگولیٹر لو وائی کی میزبانی کی تھی اور انہیں کہا کہ وہ چین میں آزادی اظہار پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ مارک سوکر برگ چینی زبان بھی سیکھ رہے ہیں۔

DW.COM