1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بیجنگ میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی، شہری پریشان

چين کے دارالحکومت میں حکام نے فضائی آلودگی کے معيار کو جانچنے کے نظام ميں بہتری لانے کی يقين دہانی کرائی ہے۔ قبل ازیں انتظاميہ پر الزامات عائد کيے گئے تھے کہ روز بروز بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کو نظر انداز کيا جا رہا ہے۔

default

حالیہ چند ہفتوں میں بیجنگ شہر کی فضائی آلودگی میں کافی اضافہ محسوس کیا گیا ہے۔ دھوئیں میں اضافے کے باعث یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سارے شہر کو دھند نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہو۔ گزشتہ دو روز کے دوران اس میں مزید اضافہ ہوا ہے مقامی انتظاميہ نے اسے معمول کے مطابق قرار ديا ہے جبکہ امريکی سفارتخانے کی طرف سے کی جانے والی پيمائش کے بعد، بيجنگ کی فضا کو خطرناک قرار دے ديا گيا ہے۔

معروف اخبار گلوبل ٹائمز نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ بيجنگ ميں بڑھتی ہوئی آبادی بڑی حد تک اپنی حکومت کی بجائے امريکی حکام کی جانب سے مرتب کیے گئے اعداد وشمار پر یقین رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ شہر کی انتظامیہ بھی اپنے پیمائش کے نظام کی بہتری پر غور کر رہی ہے۔

اخبار کے مطابق دونوں اطراف کی پیمائش میں پائے جانے والے تضاد کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ چینی حکام فضائی آلودگی کا باعث بننے والے صرف بڑے ذ‌رات کو مدنظر رکھتے ہیں جبکہ امریکی حکام اس کے برعکس ان چھوٹے ذرات کو بھی پیمائش میں شامل کرتے ہیں، جو شہر کی فضا کو آلودہ کر رہے ہیں۔

بیجنگ میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی سے شہری پریشان

بیجنگ میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی سے شہری پریشان

چین اس وقت فضائی آلودگی کی پیمائش میں صرف ان اجزا کو شامل کرتا ہے، جن کا قطر دو اعشاریہ پانچ سے دس مائیکرو میٹر ہو، جس کو عام فہم انداز میں پی ایم دس کہا جاتا ہے جبکہ سانئسدانوں کے مطابق دارالحکومت بيجنگ کی فضا کو آلودہ کرنے والے باریک ذروں کا قطر دو اعشاریہ پانچ مائیکرو میٹر سے بھی کم ہے اور انہیں انسانی صحت کے لیے کافی خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی ادارے بھی بيجنگ کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں سے ایک قرار دیتے ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کوئلے پر بطور ایندھن انحصار ہے۔

گلوبل ٹائمز نے حکومت پر زور دیا کہ فضائی آلودگی کے حوالے سے درست معلومات فراہم کی جائیں۔ اخبار نے لکھا ہے کہ مقامی انتظامیہ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مختلف شہروں بشمول بيجنگ میں فضائی آلودگی کی شرح بتدریج کم ہو رہی ہے لیکن بيجنگ کے شہری اپنے تجربات کی روشنی میں اس سے مطمئن نظر نہیں آتے ہیں۔

رپورٹ: شاہد افراز خان

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM