1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بیت اللہ محسود کی ہلاکت، طالبان کے لئے دھچکا

پاکستان کے مختلف سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح جنوبی وزیرستان میں ہونے والے ایک میزائل حملے میں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود ہلاک ہو چکے ہیں۔

default

بیت اللہ محسود کی ہلاکت طالبان کے لئے شدید دھچکا ثابت ہوگی

جنوبی وزیرستان میں لدّا کے قریب زنگڑا گاؤں میں موجود مختلف سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع سے ملنے والی خبروں کے مطابق امریکی سی آئی اے کے بے پائلٹ طیارے نے 5 اور 6 اگست کی درمیانی رات کو جب بیت اللہ محسود کے سسر اکرام الدین کے گھر پر دو میزائل داغے تو اس وقت بیت اللہ محسود کو گلوکوز ڈرپ لگی ہوئی تھی کیونکہ ہیضے کی وجہ سے دن بھر وہ کمزوری کی شکایت کرتے رہے جس کے بعد سعید اللہ نامی ایک مقامی ڈاکٹر نے ان کا علاج شروع کیا۔

خفیہ اداروں کی اطلاعات کے مطابق بجلی نہ ہونے اور گرمی کے باعث پورا گھرانہ مکان کی چھت پر تھا جب میزائل حملہ ہوا، جو کہ بیت اللہ محسود اور اس کی دوسری بیگم کے لئے جان لیوا ثابت ہوا۔ خیال رہے کہ پہلی بیوی سے بچے نہ ہونے کے باعث 36 سالہ بیت اللہ محسود نے گزشتہ برس ستمبر میں دوسری شادی کر لی تھی۔

سابق سیکرٹری فاٹا بریگیڈیر محمود شاہ نے بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے نتیجے میں ابھرنے والی ممکنہ نئی طالبان قیادت کے موجودہ سیاسی منظر نامے پر اثرات کے حوالے سے بتایا:’’جو لوگ شدت پسندی پر زیادہ یقین رکھتے ہوں ایسے لوگ کمانڈ پر آتے ہیں، شدت پسندی عارضی طور پر بڑھ سکتی ہے کیونکہ بیت اللہ محسود ایک میچور آدمی تھے اور وہ ایک خاص رفتار سے کام کر رہے تھے لیکن مجموعی طور پر بیت اللہ محسود کی ہلاکت سے طالبان کی قوت اور پاکستان کے خلاف شدت پسندی میں کمی ضرور آئے گی۔‘‘

مبصرین کے خیال میں بیت اللہ محسود کی اچانک موت سے جہاں طالبان اور ان کے حامیوں کو سخت تنظیمی اور نفسیاتی دھچکا پہنچا ہے۔ وہیں پر ان کی موت سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان باہمی عدم اعتماد کی فضاء بھی شاید بہتر ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ طویل عرصے سے یہ الزام لگاتی رہی ہے کہ امریکہ اپنے مخصوص اہداف کے حصول کی خاطر بیت اللہ کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہے ۔

البتہ اب امریکی میزائل حملے کے نتیجے میں بیت اللہ کی موت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے زیادہ بہتر تعاون کی بھی امید ہے تا کہ طالبان اور القاعدہ کو ختم کیا جا سکے۔ اس طرح امریکی جاسوس طیاروں کے ذریعے پاکستانی قبائلی علاقوں پر حملوں کے خلاف پاکستانی سیاسی قیادت کے اعتراضات بھی شاید کم ہوجائیں کیونکہ بہرحال ایسے ہی حملے کے نتیجے میں پاکستان کا دشمن نمبر ایک قرار دیا جانے والا عسکریت پسند مارا گیا ہے، جس نے پاکستان کے اندر خودکش حملوں کو یہ کہہ کر جائز قرار دیا تھا کہ یہ حملے امریکی میزائل حملوں کے جواب میں کئے جا رہے ہیں۔

رپورٹ : امتیاز گل، اسلام آباد

ادارت : عاطف توقیر