1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بیتھوفن کا فن

وينے زويلا کے ستّائيس سالہ موسيقار Gustavo Dudamel ، اپنے آرکسٹرا کو ہدايات ديتے وقت اسٹيج پر بہت ہی پر جوش انداز ميں متحرّک نظر آتے ہيں ۔

default

اپنے نوجوان سازندوں کو وہ کودتے،اُچھلتے اور بازؤوں کو تيزی سے حرکت ديتے ہوئے اشارے کرتے ہيں ۔ اپنے انتہائ پرجوش انداز سے وہ ان سب کو اپنے ساتھ ملا ليتے ہيں ۔ اُنہيں اسٹيج کا ايک متاثر کُن رقّاص اور آرکسٹرا کا عجوبہ کہا جاتاہے ۔

جب اُنہوں نے صرف بارہ سال کی عمر ميں پہلی بار آرکسٹرا کی سربراہی کی تھی تو اس کو مزاح کی حيثيت دی گئی تھی۔ ہوا يہ تھا کہ وہ جس آرکسٹرا ميں وائلن بجاتے تھے اُ س کا ہدايتکار بيمار پڑ گيا اور اچانک اس کی جگہ Gustavo Dudamel کو ہدايتکار کے طور پر اسٹيج پر کھڑا کر ديا گيا ۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے اپنے آپ سے يہ کہا کہ يہ تو تم بھی کر سکتے ہو ۔ اُن کا کہناہے کہ اُنہيں اچھی طرح سے ياد ہے کہ ان کے دوست دوسرے سازندے ساز بجارہے تھے اور سب ہی ہنس رہے تھے ۔ ليکن پانچ منٹ بعد ہی منظر تبديل ہو چکا تھا ۔ ا ن کے ساتھيوں نے سوچا: ’’يہ صحيح ہےہم سازندے ہيں اور يہ ہمارا ہدايتکار ہے ۔‘‘


اس کے بعد جلد ہی سب نے محسوس کر ليا کہ وہ کس قدر باصلاحيت تھے ۔ سترہ سال کی عمر ہی ميں اُنہيں نيشنل يوتھ آرکسٹرا کی قيادت کی پيشکش کی گئی ۔ اس کے بعد وہ بہت تيزی سے ترقی کرتے گئے ۔ اُ نہوں نے Bamberg کا ہدايتکاروں کا Gustav -Mahler مقابلہ جيتا۔ جلد ہی اُن کے بارے ميں يہ کہا جانے لگا کہ وہ بين الا قوامی موسيقاروں کے منظر کے نووارد ہوں گے ۔ اخبار نيويارک ٹائمز کے ايک نقاد نے لکھا کہ وہ ايک مظہر ہيں اور موسيقی کی تنقيد نگاری کے کسی انسائيکلو پيڈيا کی مدد لئے بغير ہی يہ کہا جا سکتا ہے کہ ان ميں کس قدر کشش ہے ۔


اس حيرت انگيز کارکردگی کو سمجھنے کے لئے وينے زويلا کے تعليمی نظام کو جاننا ضروری ہے ۔ Jose Antonio Abreu نے تيس برس قبل يہ نظريہ پيش کيا تھا کہ موسيقی کے ذريعہ ايک بڑی سماجی معاشرتی تبديلی لائی جا سکتی ہے ۔ چنانچہ دو برس کی عمر ہی سے بچّوں کو موسيقی کی مفت تعليم دی جانے لگی ۔ ليکن کوئی بھی اکيلا ساز نہيں بجاتا تھا بلکہ سب مل کر آرکسٹرا ميں مشق کرتے تھے ۔ اس ميں سماجی تعليم کو مرکزی اہميت حاصل تھی ، ايک دوسرے کا احترام اور باہمی تعاون اس کا حصّہ تھا۔ رياستی اداروں کی مدد کے اثرات يہ ہيں کہ آج وينے زويلہ ميں تيس پيشہ ور سمفونی آرکسٹرا ہيں۔ Simon Bolivar يوتھ آرکسٹرا ميں دس سے چوبيس سال کے نوجوان ہيں۔ ليکن اُن کی کم عمری سے کسی کو دھوکے ميں نہيں آنا چاہئے۔ وينے زويلا کے نيشنل يوتھ آرکسٹرا ميں شامل ان نو جوان موسيقاروں کا معيار پيشہ ورانہ سطح کا ہے۔ پچھلے سال بون ميں اُن کی پيشکش ميں لاطينی امريکہ کے نغمہ نگاروں کے فن پارے شامل تھے ۔ انہوں نے Leonhard Brnstein اور Ludwig van Beethoven کے نغمے بھی پيش کئے تھے۔ Simon B olivar يوتھ آرکسٹرا کی ايک سی ڈی بھی شائع ہوئی ہے ۔ يہ بیتھو فن کی پانچويں سمفونی ہے۔ Dudamel يہ جانتے ہيں کہ مو سيقی کی ريکارڈ ڈسکس کی دنيا ميں مقابلہ کس قدر سخت ہے۔ اس کے باوجود وہ بيتھو فن کی موسيقی سے استفادے کو صحيح سمجھتے ہيں ۔ اُ ن کا کہنا ہے کہ يہ سوال کيا جا سکتا ہے کہ ہم ايک يوتھ آرکسٹرا ہونے کے باوجود آخر کيوں ايک مشکل موسيقار سے ابتداء کرتے ہيں۔ جواب يہ ہے کہ بيتھو فن کو جوانی کی عمر ہی ميں سیکھنا چاہئے۔ موسيقی کی تيکننک کے لحاظ سے يہ خود اپنی تان اور آواز کو نکھارنے کے لئے ضروری ہے۔ اس کے علاوہ بيتھوفن ميں حيرت انگيز ذہانت ملتی ہے ۔

Gustavo Dudamel اب تک جن آرکسٹراز کی سربراہی کر چکے ہيں اُن کی فہرست طويل ہے۔ کچھ عرصے بعد وہ لاس اينجلس فلہارمونک آرکسٹرا کی قيا د ت سنبھاليں گے ۔