1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بیتان کور چھ سال سے زیادہ عرصے بعد پھر سے آزاد فضا میں

کولمبیا میں فوج نے ایک ڈرامائی کارروائی کے دوران سابق صدارتی اُمیدوار کے ساتھ ساتھ تین امریکیوں اور گیارہ مزید افراد کو آزاد کروا لیا ہے۔

default

کولمبیا کی سابقہ صدارتی اُمیداورIngrid Betancourt

کولمبیا کی 46 سالہ سیاستدان اُس وقت سکتے میں آگئیں، جب اُنہیں پتہ چلا کہ وہ امدادی کارکن، جو اُنہیں ایک مقام سے کسی دوسرے مقام پر منتقل کر رہے تھے، باغی نہیں بلکہ حکومتی فوجی تھے، جو اُنہیں آزاد کروانے کے مشن پر تھے۔

بدھ دو جولائی کو عمل میں لائے جانے والے اِس آپریشن کے نتیجے میں کولمبیا کی سابقہ صدارتی اُمیدوار کے ساتھ ساتھ تین امریکی یرغمالی اور گیارہ مزید افراد بھی رہا کروائے گئے۔ یہ سب کچھ باغیوں کی اُس تنظیم کی آنکھوں میں دھول جھونک کرکیا گیا، جو گذشتہ چار عشروں سے کامیابی کے ساتھ کولمبیا میں سرگرمِ عمل چلی آ رہی ہے۔

اِن سرکاری فوجیوں نے خود کو ایک فرضی غیر سرکاری تنظیم کے ارکان ظاہر کیا، جوباغیوں کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے۔ اِن فوجیوں نے پیشکش کی کہ وہ یرغمالی صدارتی اُمیدوار اور دیگر افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے باغی لیڈر الفونسو کانو سے ملوانے لے جا سکتے ہیں۔

بوگوٹا ایئر بیس پر، جہاں بیتان کُور کی چھ سال سے زیادہ عرصے بعد اپنی والدہ کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی، اِس سابقہ صدارتی اُمیدوار نے مسکراتے ہوئےصحافیوں کو بتایا کہ کیسے توہین آمیز طریقے سے ہتھکڑیاں پہنا کر سب یرغمالیوں کو ہیلی کاپٹر پر سوار کروایا گیا۔

بیتان کُور نے بتایا: ’’اور پھر اچانک اِن فوجیوں نے ہمارے ساتھ ہیلی کاپٹر پر موجود دو چھاپہ ماروں کو غیر مسلح کیا اور آپریشن کے انچارج نے چلّا کر بتایا کہ اُس کا اور اُس کے ساتھیوں کا تعلق کولمبیا کی فوج سے ہے اور یہ کہ ہم سب آزاد ہیں۔ تب ہم سب نے اتنے زور سے تالیاں بجائیں اور اتنا زیادہ اُچھلے کودے کہ ہیلی کاپٹر گرتے گرتے بچا‘‘

بیتان کُور کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ کولمبیا کی فوج کا شکریہ ادا کر رہی تھیں۔ اُنہوں نے کولمبیا اور پوری دُنیا میں اُن تمام افراد اور تنظیموں کا بھی شکریہ ادا کیا، جو اِن تمام برسوں میں اُن کی رہائی کے لئے کوشاں رہی ہیں۔

انگریڈ بیتان کُور کو سن 2002ء میں اُس وقت اغوا کر لیا گیا تھا، جب وہ اپنی صدارتی مہم چلا رہی تھیں اور اُنہوں نے بدعنوانی کے خاتمے کو اپنا بڑا ہدف قرار دیا تھا۔

یہ کامیاب آپریشن کولمبیا کے صدر الوارو اُریبے کے لئے بھی ایک بڑی کامیابی ہے، جنہوں نے امریکی امداد میں ملنے والے اربوں ڈالر کی مدد سے باغیوں کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔