1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، کرزئی

گزشتہ دنوں افغان صدرحامد کرزئی کی جانب سے ایک بیان جاری ہوا تھا کہ اگر امریکہ اور پاکستان کے مابین جنگ چھڑتی ہے تو افغانستان پاکستان کا ساتھ دے گا۔ تاہم اب وہ اپنا یہ متنازعہ بیان واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

default

گزشتہ ویک اینڈ پر پاکستان کے ایک نجی ٹیلی وژن چینل جیو ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں حامد کرزئی نےکہا تھا اگر پاکستان پر امریکہ یا بھارت کی جانب سے حملہ کیا جاتا ہے تو ان کا ملک اپنے پڑوسی کا ہی ساتھ دے گا۔ افغان صدر نے اپنے انٹرویو میں کہا،’’خدانخواستہ اگر پاکستان اور امریکہ کے مابین جنگ چھڑ گئی تو افغانستان پاکستان کا ساتھ دے گا‘‘۔

تا ہم اب افغان صدر نےکہا ہے کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ صدر کرزئی کے نائب ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے اس بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا ہے۔ انہوں نے انٹرویو کا صرف پہلا حصہ نشر کیا، جس میں صدر نے کہا تھا کہ جنگ کی صورت میں افغانستان پاکستان کا ساتھ دے گا۔ حالانکہ اصل سوال مہاجرین کے حوالے سے تھا کہ کیا کسی عسکری کارروائی کی صورت میں افغانستان پاکستانی مہاجرین کو جگہ دے گا۔ اس موقع پر صدارتی ترجمان نے واضح کیا کہ اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو افغانستان کسی صورت میں پاکستان کا ساتھ نہیں دے گا۔

Hamid Karzai

انٹرویو کا صرف پہلا حصہ نشر کیا، کرزئی

گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔ ابھی حال میں حامد کرزئی کی جانب سے اسلام آباد پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ ایک جانب پاکستان افغان عسکریت پسندوں کا ساتھ دے رہا ہے اور دوسری جانب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھی بھی ہے۔ ساتھ ہی یہ دونوں پڑوسی ممالک سرحدی علاقوں میں ایک دوسرے پر گولہ باری کے الزامات بھی عائد کرتے رہتے ہیں۔

جنگ کی صورت میں پاکستان کا ساتھ دینے کے حوالے سے کرزئی کے بیان پر مغربی ممالک کی جانب سےکوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آیا۔ کابل میں نیٹو کے ترجمان کرسٹوفر چیمبر نے کہا کہ اس وقت امن کے قیام کے حوالے سے وسیع البنیاد مذاکرات کی ضرورت ہے۔ واشنگٹن میں وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے افغان صدر کے بیان پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ انہوں نےکہا کہ اس موضوع پر کیا وضاحت دی جائے کیونکہ ایسا ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: افسر اعوان

DW.COM