1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’بیان پر قائم ہوں، بھارت چھوڑ کر نہیں جاؤں گا‘، عامر خان

بھارت میں بڑھتی عدم رواداری سے متعلق اپنے بیان پر ہدف تنقید بننے والے بھارتی سپر سٹار عامر خان نے کہا ہے کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ یا ان کی اہلیہ ملک چھوڑ کر چلے جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

Bollywood Schauspieler Aamir Khan

بالی وُڈ کے نامور فلمی ستارے عامر خان

عامر خان نے پیر کے روز دارالحکومت نئی دہلی میں صحافتی ایوارڈز کی ایک تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بھارت میں عدم برداشت کے حالیہ واقعات میں اضافے پر ’تشویش اور مایوسی‘ کا اظہار کیا تھا، جس پر حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ کئی مشہور فلمی شخصیات نے بھی اُنہیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ایک روز بعد بدھ کو اپنے ایک بیان میں عامر خان نے کہا ہے کہ اُنہوں نے ایک روز پہلے جو بھی کچھ کہا، وہ اُس پر قائم ہیں اور یہ کہ اُنہیں ’اپنے انڈین ہونے پر فخر ہے‘۔

’مجھے اپنے انڈین ہونے پر فخر ہے‘

عامر خان نے اس بیان میں کہا ہے:’’پہلے میں یہ بات مکمل طور پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میرا یا میری اہلیہ کرن کا ملک چھوڑ کر چلے جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ نہ ہمارا پہلے ایسا کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی مستقبل میں ہم ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ جو کوئی بھی اس کے برعکس بات کر رہا ہے، اُس نے یا تو میرا انٹرویو دیکھا نہیں یا پھر جان بوجھ کر میری کہی ہوئی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے۔ بھارت میرا ملک ہے، میں اس سے پیار کرتا ہوں، یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں یہاں پیدا ہوا اور یہی وہ ملک ہے، جہاں میں رہوں گا۔‘‘

پیر کے روز عامر خان نے نئی دہلی میں منعقدہ تقریب میں کہا تھا کہ اُن کی اہلیہ نے بھارت کے موجودہ ماحول کے پیشِ نظر اپنے بچے کی سلامتی کے حوالے سے تشویش ظاہر کی تھی۔ عامر خان نے کہا تھا:’’کرن اور میں تمام عمر انڈیا ہی میں رہے ہیں۔ پہلی مرتبہ اُس نے کہا ہے کہ کیا ہمیں بھارت سے چلے جانا چاہیے۔ اُسے اپنے بچے کی سلامتی کی فکر ہے۔ اُسے ڈر ہے کہ ہمارے ا ردگرد کا ماحول آگے چل کر کیسا ہونے والا ہے۔‘‘

NO FLASH Berlinale 2011 Aamir Khan

سُپر سٹار عامر خان اپنی اہلیہ کرن راؤ کے ہمراہ

’تنقید کرنے والے میرے نقطہٴ نظر کی توثیق کر رہے ہیں‘

عامر خان کے بیان پر ملک بھر میں ایک ہنگامہ خیز بحث شروع ہو گئی ہے، جس میں حکمران بی جے پی سے قریبی حلقے اور کئی فلمی شخصیات عامر خان کو اُن کے بیان کے باعث ہدفِ تنقید بنا رہی ہیں جبکہ کئی ایک حلقے، جن میں کانگریس پارٹی کی شخصیات نمایاں ہیں، اس بیان کو باریک بینی سے دیکھنے کا مشورہ دے رہی ہیں۔

اپنے اس بیان پر کی جانے والی سخت تنقید کے جواب میں عامر خان نے بدھ کو جو بیان جاری کی ہے، اُس میں وہ اپنے موقف سے ذرا بھی پیچھے ہٹتے دکھائی نہیں دیتے:’’اپنے انٹرویو میں جو کچھ میں نے کہا، مَیں اب بھی اُس پر قائم ہوں۔ جو لوگ بھی مجھے محب وطن نہ ہونے کا الزام دے رہے ہیں، اُن سے مَیں یہ کہنا چاہوں گا کہ مجھے اپنے انڈین ہونے پر فخر ہے اور مجھے کسی سے بھی اس کی سند لینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ عامر خان کے مطابق جو بھی لوگ اُن پر تنقید کے ڈونگرے برسا رہے ہیں، وہ دراصل اُن کے نقطہٴ نظر کی توثیق کر رہے ہیں۔