بہرے بچوں کے درمیان درد بھری چیخیں صرف پادری ہی سن سکتے تھے | معاشرہ | DW | 24.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بہرے بچوں کے درمیان درد بھری چیخیں صرف پادری ہی سن سکتے تھے

ارجنٹائن کے ایک اسکول کے بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے دو پادریوں کے خلاف تفتیش شروع کر دی گئی۔ دونوں پاردریوں کا تعلق رومن کیتھولک مسیحی عقیدے کے ایک گرجا گھر سے ہے۔

کم سن معذور بچوں نے پراسیکیوٹرز کو بتایا کہ گرجاگھر سے منسلک اسکول میں اُن کے ساتھ دو پادریوں نکولا کوراڈی اور ہوراسیو کارباشو اور اُن کے ساتھی مختلف اوقات میں جنسی زیادتی کرتے رہے ہیں۔ بچوں کے مطابق کئی مرتبہ میری کی شبیہہ والے مجسمے کے پہلو میں ان سے جنسی زیادتی کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اُن کی چیخیں صرف زیادتی کا ارتکاب کرنے والے پادری ہی سن سکتے تھے کیونکہ اسکول کے بقیہ بچے بہرے تھے۔ ان میں کم سن بچیاں بھی شامل ہیں۔

پادریوں نے جس اسکول کے بچوں کے ساتھ زیادتی کی، وہ بہرے بچوں کا انتونیو پرووولو اسکول ہے۔ خصوصی بچوں کا یہ اسکول ارجنٹائن کے شمال مغربی مینڈوزا صوبے میں واقع ہے۔ اس تفتیشی عمل سے سامنے آنی والی ابتدائی رپورٹوں میں پائی جانے والے درد اور جبر کی شدت نے سارے صوبے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

Irland Referendum Homo-Ehe Katholische Kirche (picture alliance/empics/N. Carson)

ارجنٹائن کی عدالت میں چوبیس کم سن بہرے بچوں اور بچیوں  نے جنسی زیادتی کی تصدیق کی ہے

ماہرین کے مطابق اٹلی میں واقع  بہرے بچوں کے ایسے ہی انتونیو پرووولو اسکول میں بھی پادریوں نے درجنوں بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔ اطالوی اسکول میں یہ سلسلہ کئی برسوں تک جاری رکھا گیا۔ تفتیش کاروں کے مطابق اطالوی اسکول میں زیادتی کا ارتکاب کرنے والا پادری نکولا کوراڈی اب ارجنٹائن کے اسکول سے ملحقہ چرچ میں تعینات ہے۔

اس پادری کو اب ارجنٹائنی عدالت میں کم سن معذور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ پراسیکیوٹرز کے مطابق ویٹیکن کو پادری نکولا کوراڈی کے گھناؤنے کردار کے بارے میں سن 2009 سے معلومات حاصل تھیں۔ ایسا بھی سوچا جا رہا ہے کہ اگر ویٹیکن ایسی معلومات رکھتا تھا تو پادری کے خلاف تادیبی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔

Papst Benedikt XVI. Deutschland 2011 Protest (picture alliance/dpa)

عالمی سطح پر گرجا گھروں کے پادریوں کی زیادتی کی وارداتوں کی مذمت کا سلسلہ شروع ہے

ایسے شکوک بھی ابھرے ہیں کہ اِس پادری کو ویٹیکن کی انتظامیہ کی حمایت حاصل ہے کیونکہ ابھی تک اُس کو بشپ کے منصب سے ہٹانے کی کوئی کارروائی شروع نہیں کی گئی ہے۔

ارجنٹائن کی عدالت میں چوبیس کم سن بہرے بچوں اور بچیوں  نے جنسی زیادتی کی تصدیق کی ہے۔ ان بچوں کو اسکول اور گرجا گھر کے مختلف مقامات پر جنسی لذت کے حصول کے تناظر میں ہوس کا نشانہ بنایا گیا۔

 پادری نکولا کوراڈی کی عمر بیاسی برس ہے۔ دوسرا پادری ہوراسیو کارباشو کی عمر پچپن برس بتائی گئی ہے۔ نکولا کوراڈی کے کمرے کی تلاش کے دوران پولیس کو برہنہ تصاویر والے کئی میگزین اور 34 ہزار ڈالر بھی دستیاب ہوئے ہیں۔

 دونوں پادریوں کے ساتھ تین دوسرے افراد بھی اِس قابل مذمت فعل میں ملوث بتائے گئے ہیں۔ اس وقت یہ پانچوں مینڈوزا کی جیل میں ہیں۔