1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بہتری ہوئی ہے لیکن میانمار میں جمہوری اصلاحات کی ضرورت ہے، امریکہ

امریکہ نے کہا ہے کہ میانمار میں کھلے پن کے واضح اشارے مل رہے ہیں تاہم اس پر عائد سخت پابندیوں کو اٹھانے سے قبل اس ایشیائی ملک کی حکومت کو مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

default

خصوصی امریکی مندوب ڈیرک میچل

میانمار میں کئی عشروں کی فوجی حکومت کے بعد اب وہاں جمہوری دور کا آغاز ہو چکا ہے تاہم اب بھی سول حکومت پر فوج کی گرفت مضبوط نظر آتی ہے۔ میانمار کے لیے خصوصی امریکی مندوب ڈیرک میچل نے پیر کو کہا کہ ینگون حکومت کی طرف سے کھلے پن کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے تاہم جمہوری اصلاحات کے عزم کے حوالے سے جڑے سوالات ابھی تک تشنہ لب ہیں۔

برما کے نام سے بھی معروف اس ایشیائی ملک میں گزشتہ برس پارلیمانی انتخابات منعقد کیے گئے تھے۔ اگرچہ ان انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور جمہوری رہنما آنگ سان سوچی کو ان میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی تھی تاہم پھر بھی مغربی ممالک نے ان انتخابات کو ایک مثبت قدم قرار دیا تھا۔ اس سے قبل 1990ء میں منعقد کیے گئے انتخابات میں سوچی کی سیاسی جماعت نے واضح کامیابی حاصل کی تھی تاہم اس وقت فوجی قیادت نے سوچی کو اقتدار منتقل نہیں ہونے دیا تھا۔

NO FLASH Aung San Suu Kyi

میانمار کی خاتون لیڈر آنگ سان سوچی

رواں برس ستمبر میں ہی ینگون حکومت نے چین کے تعاون سے تیار کیے جا رہے ایک متنازعہ ڈیم کی تعمیر روک دی تھی۔ بتایا گیا تھا کہ 3.6 بلین ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیے جانے والے اس منصوبے میں عوام کی رضا مندی شامل نہیں تھی۔ اسی طرح گزشتہ ہفتے حکومت نے ڈھائی سو سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا تھا۔ اس وقت بھی میانمار میں ایسے قیدیوں کی تعداد دو ہزار بتائی جاتی ہے۔

ڈیرک مچل نے میانمار کی حکومت کی طرف سے ان حالیہ اقدامات کی ستائش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ستمبر میں ان کا دورہ میانمار بہت خوشگوار رہا۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران میچل نے کہا کہ ینگون حکومت کھلے دل کے ساتھ تمام تجاویز سننے کے لیے تیار نظر آتی ہے، ’میرے خیال میں اس وقت جو باتیں میانمار کو ناپسندیدہ ممالک کی فہرست میں شامل کرتی ہیں ان میں کئی حکومتی اقدامات ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ برما کے عوام کو اپنے تاریخی ورثے کو تازہ کرنے اور فوجی دور حکومت کے بدنما داغ مٹانے کے لیے ابھی مزید کوشش کرنا ہو گی۔ انہوں نے یہ زور دیا کہ ینگون حکومت اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کو ختم کرے۔

ماضی میں امریکی حکومت نے میانمار کی فوجی حکومت کے خلاف کئی اہم قدامات اٹھائے تھے تاہم ایک طویل عرصے تک میانمار میں کسی تبدیلی کے آثار نہیں دیکھے گئے تھے۔ امریکہ میں صدر باراک اوباما کے اقتدار میں آنے کے بعد واشنگٹن حکومت نے اپنی پالیسی بدلی ، جس کے بعد حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس