1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بہاولپور حادثے کے ہلاک شدگان، سوشل میڈیا پر تنقید

بہاولپور حادثے میں ہونے والی ہلاکتوں پر سوشل میڈیا میں دکھ کے ساتھ ساتھ تنقیدی تبصرے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ لیکن تنقید سے پہلے کیا یہ سوال اٹھانا ضروری نہیں کہ  عام  شہریوں کو اس مقام تک لانے والے عوامل کیا ہیں؟

اتوار کی صبح بہاولپور کے علاقے احمد پور شرقیہ میں جو اندوہناک حادثہ پیش آیا اُس نے تمام ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ٹویٹر اور فیس بک پر اس حادثے میں جان سے ہاتھ دھونے والوں کے بارے میں مختلف آراء اور تبصرے سامنے آنے لگے۔  بعض لوگوں نے اُنہیں لالچی کہا تو بعض نے چور تک کہہ ڈالا۔ ایسے میں کچھ صارفین نے اس رویے کی مذمت بھی کی۔

لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آئل ٹینکر سے لیک کرنے والا پٹرول جمع کرنے والے اس بات سے آگاہ نہیں تھے کہ یہ فعل کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے؟ کیا اُن کا مسئلہ تعلیم اور شعور کی کمی تھا یا پھر غربت؟ سماجی موضوعات پر قلم اٹھانے والے بلاگر حسنین جمال نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا،’’ بہاولپور کا حادثہ چند لوگوں کی لمحاتی ہوس سے نہیں ہوا، یہ وہ بھوک ہے جو ہمارے اندر صدیوں سے ہے۔ اچھے سے اچھے خاندانی لوگ جب ولیمے کی دعوت پر ٹوٹتے ہیں تو اس کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ معزز اپر کلاس خواتین جب لان کی سیل والے پہلے دن باقاعدہ دھکے کھاتی ہیں تو اس کا مظاہرہ دیکھا جا سکتا ہے۔ سڑک پر ریڑھی والے کے بیر گریں اور موٹر سائیکل والے جاتے جاتے کرتب دکھا کر اٹھائیں وہ ایک الگ شاندار منظر ہوتا ہے۔ یہ سب ہمارا اجتماعی منظر نامہ  ہے۔ وہ لوگ غریب تھے، وہ ضرورت مند تھے، کچھ ان میں ایسے فقیر نہیں بھی ہوں گے لیکن چند لیٹر کا مطلب چند سو روپے ہے! چند سو روپوں کا مطلب معلوم ہے؟‘‘ حسنین جمال نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا،’’ یہ چند سو روپے جس کے پیچھے لوگ خاکستر ہو گئے ان کی اہمیت  اے سی کمروں میں بیٹھ کر انہیں لالچی کہنے والے کبھی نہیں جان سکتے۔‘‘

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے شعبہ ابلاغیات سے منسلک اور معروف بلاگر فرنود عالم نے ڈوئچے ویلے کو دیے ایک انٹرویو میں کہا کہ بہاولپور حادثے کے حوالے سے دو مختلف آراء رکھنے والے گروپ سامنے آئے ہیں۔ ایک گروپ حادثے میں مرنے والوں پر ہی تنقید کر رہا ہے اور اُ ن کی اخلاقیات اور تربیت پر سوال اٹھا رہا ہے جبکہ دوسرا نقطہءنظر رکھنے والے ان ہلاکتوں کا ذمہ دار غربت کو ٹھہراتے ہیں، جس کا الزام بالآخر ریاست پر عائد ہوتا ہے۔

 فرنود عالم نے مزید کہا،’’ اس بحث کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ لوگ جو آئل ٹینکر سے پٹرول جمع کر رہے تھے ،تو ایسا بھی نہیں ہے کہ اگر وہ ایک یا دو لٹر پٹرول وہاں سے نہ لیتے تو اُن کی گاڑیاں نہ چلتیں۔ میں اس کو اخلاقی مسئلہ بھی سمجھتا ہوں۔ ہماری ریاست کے سربراہان کسی بھی موقع پر جب امداد کرنے پہنچتے ہیں تو اُن کا رویہ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ جیسے وہ ریاست کے نہیں بلکہ کسی فلاحی ادارے کے سربراہ ہوں۔ تو ہمارے بڑوں نے اور ہمارے نظام نے ہمیں بغیر عزت نفس کے کام کرنے کے رویوں کا عادی کر دیا ہے۔ اور  ہم نے من حیث القوم غلط فعل کو غلط سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔‘‘

فرنود عالم کے مطابق ایسے واقعات کی وجوہات میں غربت کو اس لیے شامل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اکثر ایسے غریب افراد بھی دیکھنے میں آتے ہیں جو وقار سے زندگی گزارتے ہیں۔ اسی طرح تعلیم یافتہ افراد بھی ضروری نہیں کہ بہتر سماجی اخلاقیات کے حامل ہوں۔ فرنود کے نزدیک ایسے واقعات کے رونما ہونے کی بنیادی وجہ پاکستانی معاشرے میں دن بدن کمزور ہوتی اخلاقی اقدار ہیں۔

   

 

 

DW.COM