1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بہار میں مودی کی ہار بھارتی سیکولرازم کے حق میں ووٹ؟

بھارت کی قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ریاست بہار کے انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ یہ نتیجہ ایسے وقت آیا ہے جب دائیں بازو کی عدم رواداری اور مودی سرکار کی خامشی پر سیکولر حلقے چراغ پا ہیں۔

بھارتی انتخابی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کی تیسری سب سے زیادہ آبادی والی اور مشرق میں واقع ریاست بہار کے انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے مد مقابل اتحاد کو دو سو تینتالیس رکنی اسمبلی میں ایک سو چالیس سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل ہو رہی ہے یا ہو چکی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ریاست میں حکومت بنانے کے لیے جن کم از کم ایک سو بائیس نشستوں کی ضرورت تھی، وہ اس اتحاد کو حاصل ہو جائیں گی۔

واضح رہےکہ مودی مخالف اس اتحاد میں کانگریس کے علاوہ چھوٹی بڑی کئی جماعتیں شامل ہیں۔ ان انتخابات کو وزیر اعظم مودی کی مقبولیت کو جانچنے کا ایک ریفرنڈم بھی قرار دیا جا رہا تھا۔ گزشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں بی جے پی کو بہار میں اکثریت حاصل ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ مودی کی قیادت میں بی جے پی نے قومی سطح پر بھی زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔

انتخابات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انتخابی مہم کے لیے بی جے پی نے بڑی بڑی ریلیاں نکالی تھیں، جن میں مودی خود پیش پیش تھے۔ اگر بی جے پی یہ انتخابات جیت جاتی تو ملک کے ایوانِ بالا یا راجیہ سبھا میں اس کی عددی پوزیشن بھی بہتر ہو جاتی، جس کے بعد اس کے لیے قومی سطح پر قوانین منظور کرانا آسان ہو جاتا۔

بی جے پی کے ترجمان نلین کوہلی کا بہرحال کہنا ہے کہ بہار میں ہار سے مودی کی مقبولیت پر حرف نہیں آئے گا۔ انہوں نے فاتح اتحاد کے رہنما نتیش کمار کو جیت پر مبارک باد بھی دی، تاہم یہ بھی کہا کہ انتخابات میں ہار جیت ایک ’عددی معاملہ‘ تھی۔

اس سال بی جے پی کو دہلی کے ریاستی انتخابات میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس باعث بعض مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا مودی کی مقبولیت کی لہر کمزور پڑتی جا رہی ہے؟

مذہبی شدت پسندی کے خلاف فیصلہ؟

بھارت میں کئی ماہ سے مذہبی منافرت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ہندو انتہا پسند تنظیموں کے کارکن مذہبی اقلیتوں کو مارتے پیٹتے اور ڈراتے دھمکاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ خاص طور پر مسلمانوں کو گائے کا گوشت کھانے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، اور لبرل مصنفین کے خلاف بھی مہم میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

اس صورت حال پر ملک کے سیکولر افراد فکر مند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی کی ہندو انتہا پسندی کے واقعات پر خاموشی شدت پسندوں کو تقویت دینے کا سبب بن رہی ہے۔ بھارت میں اس حوالے سے سیکولر ادیبوں اور فن کاروں نے مہم شروع کر رکھی ہے۔ متعدد مصنف اور فلمی دنیا سے وابستہ افراد اپنے سرکاری ایوارڈ واپس کر رہے ہیں، جس کا مقصد شدت پسندی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانا بتایا گیا ہے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ بی جے پی کی حکومت بھارت کی برسوں پرانی سیکولر جڑوں کو کمزور کر رہی ہے۔

مبصرین کی رائے میں بہار میں مودی کی شکست سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ نہ صرف لوگ مود ی کی معاشی پالیسیوں کے خلاف ہوتے جا رہے ہیں، بلکہ وہ ملک میں مذہبی منافرت کا بھی خاتمہ چاہتے ہیں۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا بہار میں آنے والی تبدیلی آئندہ ملک گیر سطح پر بھی دکھائی دے سکے گی۔