1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بھیڑ کو اپنی 40 کلو گرام سے زیادہ وزنی اُون سے نجات مل گئی

آسٹریلیا سے ملنے والی خبروں کے مطابق کسی بھیڑ پر زیادہ سے زیادہ اُون کا نیا عالمی ریکارڈ بنا ہے اور ایک بھیڑ کو، جو اپنی اُون کے اندر مکمل طور پر چھُپ چکی تھی، 42.3 کلو گرام اُون سے نجات دلائی گئی ہے۔

Schaf 40 Kg Wolle Dickes Ding Australien wildes Schaf Wolle Fell

اُون اُتارے جانے سے پہلے ’کرِس‘ نامی بھیڑ کی حالت یہ تھی کہ وہ اپنی اُون میں تقریباً چھُپ گئی تھی

اس آوارہ بھیڑ کو اتفاقیہ طور پر آسٹریلوی شہر کینبرا کے قریب ایک جنگل میں دیکھا گیا۔ تب اُس کے لیے اتنی وزنی اُون کے باعث چلنا پھرنا بھی دُشوار تھا۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس اُون کو بننے میں تقریباً پانچ سال لگے ہوں گے۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ادارہ برائے انسدادِ بے رحمیٴ حیوانات RSPCA یعنی ’دی رائل سوسائٹی فار دی پریوینشن آف کروئیلٹی ٹُو اینیملز‘ کی ایک پاچ رُکنی ٹیم نے اس بھیڑ کو بچانے اور اُسے اُس اُون سے نجات دلانے کا پروگرام بنایا، جس کی تہہ سینتالیس سینٹی میٹر تک موٹی ہو چکی تھی اور جس کی وجہ سے اس جانور کی زندگی بھی خطرے میں نظر آ رہی تھی۔

Australien wildes Schaf 40 Kg Wolle

اُون اُتارنے کے چیمپئن ایلکنز کو یہ ساری اُون ایک ہی تہہ میں اُتارنے میں پورے 45 منٹ لگ گئے جبکہ عام طور پر ایک بھیڑ کی اُون اُتارنے میں محض تین منٹ صَرف ہوتے ہیں

بھیڑ کو اُون سے نجات دلانے کے لیے اُون اُتارنے کے چیمپئن آیان ایلکنز نے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کیں۔ ایلکنز نے اُون اُتارنے کا کام جمعرات تین ستمبر کو انجام دیا اور اُون کو ایک ہی تہہ کی شکل میں اُتارنے میں اُسے پنتالیس منٹ کا وقت لگا۔

Australien wildes Schaf 40 Kg Wolle

اُون اُترنے کے بعد اُتاری گئی ’کرِس‘ کی تصویر

اے بی سی ریڈیو سے باتیں کرتے ہوئے ایلکنز نے بتایا:’’میرا نہیں خیال کہ اس بھیڑ سے پہلے کبھی بھی اُون اُتاری گئی ہو گی۔ میرے خیال میں اس کی عمر پانچ یا چھ برس ہے۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ یہ اُون کوئی بہت اچھی کوالٹی کی ہے، جس کی کہ اس بھیڑ کے اتنا عرصہ جنگل میں گزارنے کے بعد توقع بھی نہیں کی جا سکتی۔‘‘

آر ایس پی سی اے نامی ادارے کے ارکان نے اس نَر بھیڑ کو ’کرِس‘ کا نام دیا ہے اور یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کہ اُس شخص کا نام بھی ’کرِس‘ ہی ہے، جسے پہلی مرتبہ یہ بھیڑ ملی تھی۔

’کرِس‘ کی اُون اُتارنے سے پہلے اُسے سکون آور ادویات دی گئیں تاکہ اُس کے لیے یہ عمل کم سے کم پریشانی کا باعث بنے۔

’کرِس‘ کی بیالیس اعشاریہ تین کلوگرام اُون نے نیوزی لینڈ کی اُس بھیڑ کا ریکارڈ توڑ دیا ہے، جو جنگل ہی سے ملی تھی، جسے ’شرَیک‘ کا نام دیا گیا تھا اور جس پر سے اُتاری جانے والی اُون کا وزن ستائیس کلوگرام بنا تھا۔

واضح رہے کہ اس نسل کی بھیڑوں سے عام طور پر سال میں ایک مرتبہ اُون اُتاری جاتی ہے، جس کا وزن پانچ کلوگرام کے لگ بھگ ہوتا ہے اور جسے اُتارنے میں صرف تین نٹ کا وقت صرف ہوتا ہے۔

DW.COM