1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھٹی کا قتل پاکستان کا بہت بڑا نقصان: جرمن رہنماؤں کا رد عمل

وفاقی جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے پاکستان میں اقلیتی امور کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے افسوسناک قتل پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ برلن حکومت اس قتل کی بھر پور الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

default

چانسلر میرکل پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ، فائل فوٹو

جرمن دارالحکومت برلن میں انگیلا میرکل کے ایک ترجمان نے کہا کہ میرکل حکومت اور اس کے تمام ارکان شہباز بھٹی کی المناک ہلاکت پر ان کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

چانسلر میرکل کے ترجمان شٹیفن زائبرٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ مقتول شہباز بھٹی پاکستان میں مختلف مذہبی برادریوں کے مابین ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کوشاں تھے اور اپنی اس خواہش اور اس بارے میں اپنی باہمت سوچ کی قیمت انہوں نے اپنی جان دے کر ادا کی۔

ترجمان نے کہا کہ شہباز بھٹی نے برلن میں انگیلا میرکل کے دفتر کا دورہ بھی کیا تھا اور وہ اسلام آباد میں جرمن سفارت خانے کے ساتھ باقاعدگی سے رابطہ رکھنے والے پاکستانی سیاستدان تھے۔

اسی دوران وفاقی جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے بھی پاکستان میں اقلیتی مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے اس وفاقی وزیر کے قتل پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ذاتی طور پر جبکہ جرمن ریاست اور معاشرے کو بالعموم شہباز بھٹی کی موت پر گہرا صدمہ ہوا ہے۔ ان کے بقول اقلیتوں سے متعلقہ امور کے اس پاکستانی وزیر کا قتل پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔

NO FLASH Ukraine Kiew Westerwelle Schewtschenko-Universität

جرمن وزیر خارجہ ویسٹر ویلے

ویسٹر ویلے نے برلن میں کہا کہ مقتول شہباز بھٹی نے پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی مسلسل کوششیں بڑی ہمت سے جاری رکھیں اور اب جنوبی ایشیا کی اس ریاست میں ہر کسی کو اپنی اپنی حیثیت میں یہ کوشش کرنا ہو گی کہ بھٹی کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور اکثریتی طور پر مسلمان آبادی والے ملک پاکستان میں تمام مذہبی گروپوں اور ان کے حقوق کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔

شہباز بھٹی پاکستان کی وفاقی کابینہ میں شامل واحد مسیحی سیاستدان تھے، جنہیں بدھ کے روز اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے رخصتی کے وقت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ وہ توہین رسالت سے متعلق پاکستان میں نافذ متنازعہ قانون کے مخالفین میں سے ایک تھے، جو اس قانون میں ترمیم کے خواہش مند بھی تھے۔ ان کے قتل کے فوری بعد اس واقعے کی ذمہ داری پاکستانی طالبان نے قبول کر لی تھی۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM