1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھوک کے خلاف جنگ، برازيل اقوام متحدہ کی مدد کا خواہاں

اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظيم کا کام بھوک کے مقابلے کے ليے کی جانے والی بين الاقوامی کوششوں کے درميان رابطہ پيدا کرنا ہے۔ اس تنظيم کے اگلے ڈائريکٹر جنرل برازيل کے خوسے گراسيانو دا سلوا ہو سکتے ہيں۔

خوسےگراسيانو دا سلوا

خوسےگراسيانو دا سلوا

خوسے گراسيانو دا سلوا کی تقرری کی بات برازيل کے سابق صدر لولا دا سلوا نے چھيڑی تھی، جن کے دور صدارت ميں خوسے گراسيانو نے وزير خوراک کی حيثيت سے بھوک کے مکمل خاتمے کا پروگرام شروع کيا تھا۔ اس طرح اُنہيں اس شعبے ميں خاصا تجربہ بھی حاصل ہے۔ گراسيانو سن 2006 سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے ڈپٹی ڈائريکٹر ہيں۔ اُنہوں نے 24 جون کو تنظيم کے نئے ڈائريکٹر جنرل کے انتخاب سے پہلے بھوک کے مقابلے کے ليے اپنی تجاويز پر ڈوئچے ويلے کو ايک انٹرويو ديا جس کے چند اقتباسات درج ذيل ہيں:

ڈوئچے ويلے: برازيل کئی برسوں سے بھوک اور ناقص غذا کے خلاف جنگ ميں ايک مثالی ملک سمجھا جاتا ہے۔ صدر لولا کی حکومت ميں آپ اس ميدان ميں بڑی کامياب تبديليوں کے ذمہ دار تھے۔ آپ اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظيم کے سربراہ کے طور پر اپنے ان تجربات کو کس طرح عملی شکل دے سکتے ہيں؟

برازيل کا نقشہ

برازيل کا نقشہ

گراسيانو دا سلوا: خوراک و زراعت کی تنظيم کو مرکزيت پسندی ختم کر کے انفرادی طور پر ملکوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ برازيل کے بھوک کے مکمل خاتمے کے پروگرام کے حوالے سے يہ بات اہم ہے کہ ہم ِنے ہائی ٹيکنالوجی کے استعمال پر زور نہيں ديا تھا۔ بڑے شہروں کے تيزی سے پھيلنے کے ساتھ صحيح غذا کے استعمال سے متعلق پرانی نسلوں کے قيمتی تجربات اور علم کو بھلا ديا گيا تھا۔ ہمارا مقصد اس سے دوبارہ فائدہ اٹھانا تھا۔ يہ اہم ہے کہ جو غذائی اشيا موجود ہيں اُن سے بہتر طور پر فائدہ اٹھايا جائے۔ بارش کے پانی کو جمع کرنے کا موزوں انتظام ہونا چاہيے اور گھريلو زراعت کی مدد بھی ضروری ہے۔ يہ غذائی اشيا کی پيداوار کے اہم ترين ذرائع ہيں۔ برازيل کا بھوک کے مکمل خاتمے کا پروگرام کوئی حکومتی پروگرام نہيں تھا بلکہ اس ميں سول سوسائٹی، سماجی تنظيموں، مذہبی اداروں، فٹ بال کلبوں اور نجی شعبے سميت پورے معاشرے نے حصہ ليا تھا۔

FAO، خوراک و زراعت کی تنظيم کا لوگو

FAO، خوراک و زراعت کی تنظيم کا لوگو

ڈوئچے ويلے: آپ سن 2006 سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت ميں لاطينی امريکہ کے امور کے ذمہ دار ہيں۔ کيا اس خطے ميں بھوک کے اسباب کا موازنہ دوسرے براعظموں سے کيا جا سکتا ہے؟

گراسيانو دا سلوا: نہيں۔ لاطينی امريکہ ميں ہم ايک طرف تو تجربہ گاہ ميں مصنوعی طريقے سے زندگی پيدا کرنے کی دہليز پر کھڑے ہيں اور دوسری طرف ہم بنی نوع انسان کے سب سے پہلے چيلنج، يعنی روزانہ خوراک کی فراہمی کے مسئلے کو حل نہيں کر پائے ہيں۔لاطينی امريکہ کے ملکوں کو ايک مؤثر سماجی سياست، بھوک کے خاتمے اور تعليم کے شعبوں ميں سرمايہ کاری کے ليے ٹيکسوں کی رقوم کی بھی ضرورت ہے ليکن رياست کو بہت کم ٹيکس وصول ہوتے ہيں۔ اس کے علاوہ بہت سے ملکوں نے زراعت سے لاپرواہی برتی ہے۔ پچھلے برسوں ميں جب غذائی اشياء سستی تھيں، تو ان ممالک نے ان کی درآمد شروع کردی۔ ليکن جب عالمی منڈيوں ميں غذائی اشياء کی قيمتيں بڑھ گئيں، تو ان ملکوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کيونکہ اُن کی ملکی زراعت ميں خاصی کمی ہو چکی تھی۔

ہمارا اندازہ ہے کہ غذائی اشياء کی قيمتيں ايک لمبے عرصے تک اونچی سطح پر رہيں گی۔ ليکن ہيٹی يا مصر کی مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اونچی قيمتوں کے خلاف احتجاجات سے ملکی استحکام خطرے ميں پڑ جاتا ہے۔ غذائی اشياء کی کمی اور اُن تک رسائی مشکل ہونے سے بہت سی رياستوں کا استحکام کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ خوراک کی فراہمی کو يقينی بنانا اُتنا ہی ضروری بن چکا ہے جتنا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قومی خود مختاری کا تحفظ، يعنی يہ کہ يہ کسی بھی رياست کی ايک بنيادی ذمہ داری بن چکی ہے۔

رپورٹ: اليکزانڈرا شيرلے، شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM