1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھوک اور قحط کو روکنے میں عالمی برداری اپنا کردار ادا کرے، ویلیری آموس

صومالیہ میں بھوک اور قحط کا مسئلہ ملک کے دو متاثرہ علاقوں کے بعد اب جنوبی صومالیہ کے دیگر حصوں میں بھی پھیلنا شروع ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے بلاتاخیر اور بھرپور امداد کی اپیل کی ہے۔

default

قرن افریقہ میں بھوک پر قابو پانے کے لیے انتہائی مؤثر ردعمل کی ضرورت ہے، ویلیری آموس

اقوام متحدہ اس سے قبل اپنے بیان میں کہہ چکا ہے کہ قرن افریقہ کے خطے میں شدید ہوتے جا رہے قحط کے سلسلے میں فوری اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ مزید یہ کہ اگر اس بحران کو پھیلنے سے روکا نہ گیا تو اس کا دائرہ پہلے ہی بدامنی اور خانہ جنگی کے شکار ملک صومالیہ کے دیگرعلاقوں تک بھی پھیل جائے گا اور تب اس پر قابو پانا اور بھی مشکل ہو گا۔

Valerie Amos UN Nothilfekoordinatorin in Somalia

ویلیری آموس نے ابھی حال ہی میں وسطی افریقہ کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

اقوام متحدہ کے ہنگامی امداد کے ادارے سے ویلیری آموس نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے قرن افریقہ میں بھوک پر قابو پانے کے لیے انتہائی مؤثر ردعمل کی ضرورت ہے۔ ’’ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، ورنہ طویل خشک سالی کے نتیجے میں یہ قحط کئی دوسرے علاقوں کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘

حال ہی میں اپنا صومالیہ کا دورہ مکمل کر کے واپس آنے کے بعد ویلیری آموس نے مزید کہا کہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ صومالیہ، ایتھوپیا، کینیا اور اریٹیریا میں صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔ اس خطے میں قحط سے متاثرہ انسانوں کی تعداد 12 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔

ویلیری آموس کے مطابق، ’’اگر ہم نے فوری اقدامات نہ کیے تو قحط اس خطے کے مزید چار سے چھ علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ خشک سالی اور قحط کے باعث اب تک ہزاروں صومالی باشندے ہلاک ہو چکے ہیں اور بھوک کی وجہ سے لاکھوں پریشانی کا شکار ہیں۔

Somalia Hungersnot Lager Flüchtlingslager Mogadischu Hilfsgüter

ریڈ کراس نے متاثرہ علاقوں میں خوراک تقسیم کرنا شروع کردی ہے

اسی دوران انٹرنیشنل ریڈ کراس کمیٹی اس سال پہلی مرتبہ صومالیہ کے بھوک سے متاثرہ جنوبی اور وسطی علاقوں میں اشیائے خوراک تقسیم کرنا شروع کر چکی ہے۔ ریڈ کراس کی ایک خاتون ترجمان نے بتایا کہ اس دوران ایک لاکھ 62 ہزار انسانوں میں تقریباً تین ہزار ٹن اشیائے خوراک تقسیم کی جائیں گی۔

اُدھرایک ہفتہ قبل فضائی رسد رسانی کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد سے اقوام متحدہ کی چھٹی پرواز بھی امدادی سامان لے کر صومالی دارالحکومت موغادیشو پہنچ گئی ہے۔ دریں اثناء افریقی یونین نے مشرقی افریقہ میں قحط کے شکار بارہ ملین انسانوں کے لیے ایک بین الاقوامی ڈونر کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

DW.COM