1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’بھوکے افراد میں کھانا تقسیم کرنے پر پابندی‘

فرانس میں فاسٹ فوڈ چین مک ڈونلڈز کو اپنے اُن احکامات پر معافی مانگنے پر مجبور کر دیا گیا جن میں اسٹاف کو تاکید کی گئی تھی کے وہ مانگی تانگی چیزوں پر گزارہ کرنے والے آوارہ گردوں کو کھانا نہ دیں۔

مشرقی فرانس کے بحیرہ روم پر واقع تعطیلاتی مقام ’کوڈ ایزور‘ کے ایک مک ڈونلڈ ریستوران میں پیش آنے والا یہ واقعہ سوشل میڈیا نیٹ ورک کی غیر معمولی توجہ کا باعث بنا ہے۔ ٹوئٹر صارفین کے ایک گروپ جس کا نام ’’ 60 ملین کنزیومرز‘‘ ہے کے ذریعے پھیلنے والی ایک خبر کے مطابق مک ڈونلڈ ریستوران کے مینیجر نے اپنے کارکنوں کو تحریری طور پر احکامات جاری کیے جن کے مطابق بھکاریوں کو فوڈ یا غذا دینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے‘‘۔

اطلاعات کے مطابق اس تحریری نوٹ پر ریستوران کے مینیجر نے باقاعدہ دستخط کیے ہیں۔ مک ڈونلڈ کے مقامی ذرائع نے کہا ہے کہ یہ اقدام 25 جولائی کو رونما ہونے والے ایک واقعے کے پس منظر میں اُٹھایا گیا ہے۔

اس نوٹ پر یادہانی کے طور پر درج ہے کہ اسٹاف کا کھانا ریستوران کی عمارت کے اندر کھانے کی اجازت ہے۔ یہ کھانے محض کارکنوں کے استعمال کے لیے ہیں اور اس کا استعمال صرف اسٹاف ممبر ہی کر سکتے ہیں۔

Flash-Galerie Religion und Essen Quick Fastfood Kette für Muslime in Frankreich Halal-Burger

فاسٹ فوڈ ریستورانوں میں بے حساب کھانوں کا ضیاع ہوتا ہے

اس تحریری حکم نامے کا سب سے زیادہ متنازعہ اور حساس بیان وہ تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’مک ڈونلڈ میں ملک بھر کے بھوکوں کو کھانا کھلانے کی جگہ نہیں‘‘۔

صارفین کی ایسوسی ایشن نے اپنی ویب سائیٹ پر مک ڈونلڈ ریستوران کے ایک ایسے کارکن کا حوالہ دیا ہے جس نے بتایا تھا کہ ’’اُس نے گزشتہ ماہ اپنا کچھ کھانا ریستوران کے باہر تقسیم کیا تھا‘‘۔

مک ڈونلڈ کے اس کارکن کے بیان کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے صارفین کے گروپ نے بتایا کہ اُس نے اپنے اس عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ،’’ میں نے جن لوگوں کو اپنا کھانا دیا تھا اُن کے چہروں کی مسکراہٹیں انمول تھیں، جن کی قیمت نہیں لگائی جا سکتی‘‘۔

Flash-Galerie Religion und Essen Quick Fastfood Kette für Muslime in Frankreich Halal Burger

فرانس میں حلال فاسٹ فوڈ کی طرف مسلمان صارفین کی توجہ

فاسٹ فوڈ ریستوراں مک ڈونلڈ نے اپنے جوابی بیان میں کہا ہے کہ،’’25 جولائی کی شام فرانس کے علاقے Hyeres میں قائم مک ڈونلڈ کی ایک شاخ کے باہر ایک واقعہ رونما ہوا تھا جس کے بعد ریستوران کی انتظامیہ کی طرف سے ایک نوٹ جاری کیا گیا تھا جس کا مقصد ایسے واقعات کے رونما ہونے سے بچنے اور کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا‘‘۔

بے گھر افراد کو کھانا نہ دینے کے احکامات کی خبر عام ہونے پر مک ڈونلڈ کی مرکزی انتظامیہ نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ مینیجمنٹ سے اس نامناسب اور بھونڈے بیان پر اُن تمام افراد سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جن کے جذبات ممکنہ طور پر اس قسم کے بیان سے مجروح ہوئے ہوں گے۔ مک ڈونلڈ کی مرکزی انتظامیہ نے اس متنازعہ بیان کو بھی واپس لے لیا ہے۔

امریکی فاسٹ فوڈ ریستوراں مک ڈونلڈ نے اپنے تمام چین ریستورانوں کے کار کنوں سے کہا ہے کہ وہ اس امر کو فراموش نہ کریں کہ یہ فاسٹ فوڈ چین اپنے کلائنٹس کی بلا تفریق و امتیاز خدمت پر مامور ہے۔

DW.COM