1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھوٹان میں سارک سمٹ اختتام پذیر

سارک تنظیم کا قیام جنوبی ایشیائی ملکوں کی ترقی کے لئے عمل میں آیا تھا لیکن اب یہ تاثر تقویت پا رہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے باہمی تنازعات کے باعث ہی یہ تنظیم اب تک اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکی ہے۔

default

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سارک سمٹ کے دوران خطاب کرتے ہوئے

Bhutan South Asia Summit SAARC Gipfel Flash

بھارت، پاکستان، سری لنکا، افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال اور مالدیپ سارک کے رکن ملک ہیں

سارک کا سولہواں سمٹ بھی اختتام پذیر ہوا۔

سارک کا سربراہ اجلاس بھوٹان کے دارالحکومت تھمپو میں منعقد ہوا لیکن اس مرتبہ بھی یہی ہوا کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ سارک سمٹ پر کم، پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی ملاقات پر زیادہ رہی۔ بہرکیف اس دو روزہ سربراہ اجلاس میں جنوبی ایشیائی رہنماوٴں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز کا ایک ساتھ مل کر مقابلہ کرنے کے حوالے سے ایک سمجھوتہ طے کیا۔ سارک رہنماوٴں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ خطے میں ترقی کے ایک نئے دور کے آغاز کے لئے کوششیں تیز کریں گے۔

سارک ایسوسی ایشن کا قیام سن 1985ء میں عمل میں آیا لیکن پچیس برس گزرنے کے باوجود اس کی کامیابیوں کی فہرست کچھ زیادہ طویل نہیں ہے۔ بھارت، پاکستان، سری لنکا، افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال اور مالدیپ سارک کے رکن ملک ہیں۔

Der indische Premierminister Manmohan Singh

اس بار بھی میڈیا کے نمائندوں کی زیادہ تر توجہ ہند پاک وزرائے اعظم کی علٰیحدہ ملاقات پر مرکوز رہی

سارک سربراہ اجلاس کے اختتام پر حتمی اعلامیے میں کہا گیا:’اب وہ وقت آن پہنچا ہے، جب اس تنظیم کو دنیا کی آبادی کے پانچویں حصے کی امیدوں اور توقعات کو پورا کرنا ہوگا‘۔ سارک رہنما ماحولیاتی تبدیلیوں کے موضوع کے حوالے سے بھی سنجیدہ نظر آئے۔

بدھ کو جب میزبان ملک بھوٹان کے وزیر اعظم نے دو روزہ سمٹ کا افتتاح کیا، تو انہوں نے اپنے خطاب میں برملا طور پر یہ اعتراف کیا کہ سارک تنظیم اپنے اہداف کے حصول کے حوالے سے زیادہ کامیاب نہیں رہی ہے۔ اس موقع پر بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے بھی کہا کہ جنوبی ایشیا کو عالمی تجارت اور نیٹ ورکس کا حصہ بننا ہوگا یا پھر دنیا سے کٹے رہنے کے خطرے کا سامنا کرنا ہوگا۔ بھوٹانی وزیر اعظم جگمے تھنلے نے کہا کہ اس تنظیم کو محض ایک ’ٹاک شاپ‘ نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم بنانا ہوگا، جو واقعی خطے میں ہر شعبے کی مجموعی ترقی کا ذریعہ بنے۔

سارک کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم اپنے قیام سے آج تک صرف پاکستان اور بھارت کے باہمی تنازعات اور مسائل کی وجہ سے مقررہ اہداف کے حصول میں ناکام رہی ہے۔ اس بار بھی سارک کی کوریج کے بجائے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی زیادہ تر توجہ ہند پاک وزرائے اعظم کی علٰیحدہ ملاقات پر ہی مرکوز رہی۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی

ادارت: امجد علی

DW.COM